واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کیساتھ امن معاہدے کے امکانات روشن ہیں اور مذاکرات میں پیشرفت مثبت سمت میں جاری ہے جبکہ ان کے مطابق اسرائیل بھی اپنی فوجی کارروائیوں میں کمی لا سکتا ہے ۔
امریکی میڈیا کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں جاری مبینہ سفارتی رابطوں سے متعلق پُر اُمید ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ یہ کوششیں جلد نتیجہ دیں گی، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت مذاکرات کے دوران نسبتاً معتدل رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، تاہم خبردار کیا کہ اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا گیا تو صورتحال سنگین اور تکلیف دہ ہو سکتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی پذیرائی، ٹرمپ کا اسرائیل کو لبنان پر حملے بند کرنے کا حکم
ٹرمپ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک حالیہ ٹیلیفونک گفتگو میں لبنان پر حملوں میں کمی پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔
دوسری جانب امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں سے فیس وصول کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ایران کو فوری طور پر یہ عمل روکنا ہوگا ۔
ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اور کسی بھی قسم کی اضافی فیس یا رکاوٹ عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سویلین تباہی کی دھمکی: کانگریس ارکان کا صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے اور 25ویں ترمیم کے استعمال کا مطالبہ
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس صورتحال کو قریبی طور پر مانیٹر کر رہا ہے اور اگر یہ عمل جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں ۔




