جرمنی نے ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔
جرمنی نے ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے یورپی سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے کہا ہے کہ برلن حکومت نہ صرف ایران سے براہ راست رابطے بحال کر رہی ہے بلکہ اس عمل کے بارے میں امریکا اور یورپی یونین کو بھی مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا ہے تاکہ کسی بھی سفارتی غلط فہمی سے بچا جا سکے ۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کی کوشش ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کیا جائے اور دونوں ممالک کو ایک بامعنی مذاکراتی میز پر لایا جائے ۔
ان کے مطابق اس سلسلے میں ایک مجوزہ مذاکراتی فریم ورک پر کام جاری ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مذاکرات کیلئے آنے والے وفود اور صحافیوں کو حکومتِ پاکستان نے بڑی سہولت دے دی
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی ممالک اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایران سے تنازع کسی بڑے فوجی تصادم کی صورت اختیار نہ کرے کیونکہ اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کریں گے ۔
فریڈرک میرز نے نیٹو اتحاد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ کشیدگی سے نیٹو کے اتحاد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، جسے یورپ کسی صورت برداشت نہیں کر سکتا ۔
انہوں نے کہا کہ یہ ا ستحکام یورپی سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اسی لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ جرمنی ایران کیساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اسلام آباد میں ممکنہ امریکا ایران مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کے نائب صدر پاکستان کی کاوشوں کے معترف،بڑا اعلان کردیا
ان کا مزیدکہنا تھا کہ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف بحرانوں کا شکار ہے، اس لیے مزید غیر یقینی صورتحال سے بچنا ناگزیر ہے۔ جرمنی کی کوشش ہے کہ خطے میں تناؤ کم ہو اور اقتصادی استحکام کو فروغ ملے ۔




