یومِ دستور

یومِ دستور2026پر صدر مملکت اور سیاسی رہنماؤں کے پُرجوش پیغامات، آئین ہی قومی اتحاد اور جمہوریت کی ضمانت

آج ملک بھر میں’’یومِ دستور‘‘قومی جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔ اس موقع پر ملک کی اعلیٰ سیاسی و پارلیمانی قیادت نے 1973 کے آئین کو پاکستان کی جمہوری شناخت، وفاقی نظام کے استحکام اور شہری حقوق کے تحفظ کی بنیادی ضمانت قرار دیا ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ 1973 کا آئین پاکستان کی جمہوری پہچان اور وفاقی توازن کی بنیاد ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز محض ایک قانونی فریم ورک نہیں بلکہ حکمرانی کیلئے ایک مستقل رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے اور اس پر مکمل عمل درآمد ہی جمہوریت اور انصاف کے نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے ۔

انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ متفقہ آئینی ڈھانچے کی تشکیل ان کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے ۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 1973 کے آئین کو قومی یکجہتی ، جمہوری استحکام اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا اہم سنگِ میل قرار دیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:1973 کا آئین قومی اتحاد اور وفاق کی مضبوط علامت ہے ، وزیراعظم شہباز شریف

ان کا کہنا تھا کہ آئین کا مؤثر نفاذ ایک مضبوط وفاق اور عوامی مفاد پر مبنی نظامِ حکومت کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آئین اداروں کے درمیان توازن ، شفاف احتساب اور عوامی نمائندگی کو یقینی بناتا ہے ۔

سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے اس موقع پر کہا کہ آئین کی پاسداری ہی ملک کی ترقی اور استحکام کی اصل بنیاد ہے ۔

یومِ دستور صرف ایک قانونی دستاویز کی یاد دہانی نہیں بلکہ قومی اتحاد، جمہوری اقدار اور ریاستی استحکام کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے ۔

10 اپریل 1973 کو متفقہ طور پر منظور ہونے والا یہ آئین، جس کی تشکیل میں ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر سیاسی رہنماؤں کا کردار شامل تھا، پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور روشن باب ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مذاکرات کیلئے آنے والے وفود اور صحافیوں کو حکومتِ پاکستان نے بڑی سہولت دے دی

1971 کے سانحے کے بعد سیاسی قیادت نے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ملک کو ایک متفقہ آئینی راستہ فراہم کیا، جسے 10 اپریل 1973 کو حتمی شکل دی گئی ۔

Scroll to Top