آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ: بغیر اشتہار بھرتی ہونے والے تمام پٹواری فارغ، اعلیٰ افسران بھی زد میں

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے محکمہ مال میں غیر قانونی تعیناتیوں کے خلاف ایک ایسا تاریخی فیصلہ سنایا ہے جس نے پورے ریاستی انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

معزز جسٹس چوہدری خالد رشید نے مقدمہ عنوانی “اعظم رؤف بنام ڈپٹی کمشنر سدھنوتی” میں فریقین کو سننے کے بعد 1991 کے بعد بغیر کسی ایڈورٹائزمنٹ (اشتہار) کے بھرتی ہونے والے تمام پٹواریوں کو ملازمت سے فارغ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں سرکاری دفاتر کے نئے اوقات کار کا اعلان: نوٹیفکیشن جاری

اس فیصلے کی سب سے اہم اور حساس بات یہ ہے کہ عدالت نے ان تمام اہلکاروں کی ابتدائی تقرریوں کو ہی کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 1991 کے بعد جو پٹواری بغیر اشتہار بھرتی ہوئے تھے اور اب ترقی پا کر ڈپٹی کمشنر (DC)، اسسٹنٹ کمشنر (AC)، تحصیلدار، نائب تحصیلدار اور گرداور جیسے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، وہ بھی اس فیصلے کی زد میں آ گئے ہیں اور ان کی ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ میرٹ اور قانون کے خلاف کی گئی بھرتیاں کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ صرف ضلع سدھنوتی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا اطلاق پورے آزاد کشمیر پر ہوگا۔ عدالت نے محکمہ مال میں ہونے والی ان بے ضابطگیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے خلاف روبکار قائم کرنے اور چھ ماہ کے اندر مکمل انکوائری کا حکم دیا ہے۔ مقدمے کی پیروی معروف قانون دان ثاقب احمد عباسی ایڈوکیٹ نے کی۔

 

Scroll to Top