اسلام آباد: مشرقِ وسطٰی میں جنگ کے بادل چھٹانے اور ایک نئے امن معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے پاکستان آج ایک تاریخی سفارتی مشن کی میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ عالمی سیاست کے اس بڑے بریک تھرو کے تحت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اپنے اپنے اعلیٰ سطح کے وفود کے ہمراہ آج جمعرات کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وفد میں نائب صدر کے ساتھ اسٹیو وٹکاف اور سابق امریکی صدر کے مشیر جیریڈ کشنر بھی شامل ہیں، جو ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ترین مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ اس حساس مشن کی تیاری کے لیے امریکی وفد کے 23 معاون ارکین، جن میں سیکیورٹی ماہرین اور ٹیکنیکل ٹیم شامل ہے، پہلے ہی وفاقی دارالحکومت پہنچ کر انتظامات کو حتمی شکل دے چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے لیے اپنی یہ اعلیٰ ٹیم اسلام آباد بھیجی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی اور اسلام آباد میں اہم شاہراہیں بند: ٹریفک پولیس کا متبادل پلان جاری
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم کو باقاعدہ آگاہ کیا ہے کہ ایران کا بااختیار وفد، جس کی قیادت اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، ان مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچے گا۔ پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت ان مذاکرات کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔ اس مشن کا بنیادی مقصد ایران کے 10 نکاتی منصوبے اور امریکہ کی تجاویز کے درمیان درمیانی راستہ تلاش کرنا ہے۔
عالمی مبصرین 9 اپریل 2026 کے اس دن کو عالمی سیاست کا اہم ترین موڑ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ طویل عرصے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ واشنگٹن اور تہران کی قیادت کسی تیسرے ملک میں براہِ راست مذاکرات کے لیے یکجا ہو رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست تعلقات کا فقدان رہا ہے اور سوئٹزرلینڈ پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ رہا ہے۔ تاہم، حالیہ بحران میں پاکستان نے ایک فعال ثالث کے طور پر ابھر کر دونوں ممالک کو آمنے سامنے بیٹھنے پر آمادہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور پوری دنیا کی نظریں ان مذاکرات کے نتائج پر جمی ہوئی ہیں۔




