زیادہ صفائی کتنی نقصان دہ ہے؟ نئی اور حیرت انگیز تحقیق میں بڑے انکشافات

ہم نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ صفائی تندرستی کی ضامن ہے، لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ حد سے زیادہ صفائی انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ صفائی کو اب تک تندرستی کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور حکومتیں بھی اس کی تشہیر کرتی نظر آتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں کورونا جیسی وبائی امراض کے بعد لوگوں میں صفائی کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

تاہم ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر جراثیم سے پاک ماحول جسم کی قدرتی قوت مدافعت کو کمزور کر سکتا ہے۔ انسانی جسم کو مضبوط مدافعتی نظام کے لیے جراثیم سے مکمل دوری نہیں بلکہ ایک متوازن رابطہ درکار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مقصد جراثیم سے پاک زندگی گزارنا نہیں بلکہ جراثیم کے بارے میں ایک متوازن اور سمجھدار طرزِ زندگی اپنانا ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ کرنیوالے طلبہ کیلئے خوشخبری،پی ایم ڈی سی نے اہم فیصلہ کرلیا

سائنسی نظریہ “ہائجین ہائپوتھیسس” کے مطابق بچپن میں جراثیم اور ماحول کی آلودگی سے مناسب حد تک واسطہ پڑنا بہت ضروری ہے۔ یہ عمل انسان کے مدافعتی نظام کو سیکھنے اور بیماریوں سے لڑنے کے قابل بناتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن بچوں کو ابتدائی زندگی میں قدرتی جراثیم کا سامنا کم ہوتا ہے، ان میں الرجی، دمہ اور خودکار مدافعتی بیماریوں کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بار بار ہینڈ سینیٹائزر، اینٹی بیکٹیریل اسپرے اور غیر ضروری صفائی سے جسم کے وہ مفید بیکٹیریا بھی ختم ہو جاتے ہیں جو آنتوں کی صحت اور مدافعت کے لیے ضروری ہیں۔ جراثیم سے مکمل دوری صرف بچوں ہی نہیں بلکہ بڑوں کے مدافعتی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جراثیم کا غیر حقیقی خوف اور بار بار سینیٹائزر کا استعمال الرجی اور آٹو امیون بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مظفرآباد: وزیر صحت آزاد کشمیر کا سی ایم ایچ ایمرجنسی وارڈ کا اچانک دورہ

اس کے علاوہ عام بیماریوں میں اینٹی بائیوٹکس کا زیادہ استعمال بھی جسم کے مائیکروبائیوم کو متاثر کرتا ہے، جس سے مدافعتی نظام کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ ماہرین کی حتمی رائے ہے کہ مکمل جراثیم کش زندگی کے بجائے “متوازن صفائی” اختیار کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹائزر کے بجائے پانی اور صابن سے ہاتھ دھوئے جائیں اور غیر ضروری جراثیم کش اسپرے کا استعمال کم کیا جائے۔ قدرتی ماحول، باغبانی اور بیرونی سرگرمیوں سے گریز نہ کریں تاکہ مفید بیکٹیریا کا توازن برقرار رہے۔

Scroll to Top