نیلم : جہاں جدید دور میں انسان انفرادیت پسندی کا شکار ہو کر ایک دوسرے سے دور ہو رہا ہے، وہیں وادی نیلم کے باسیوں نے اپنی صدیوں پرانی خوبصورت روایت “لیتری” کو زندہ رکھا ہوا ہے، جو نہ صرف باہمی اخوت کی علامت ہے بلکہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔
حالیہ دنوں میں وادی نیلم کے علاقے دواریاں میں اس وقت بھائی چارے کا ایک شاندار منظر دیکھنے کو ملا جب ابوبکر منہاس (جن کا مکان گزشتہ دنوں آتشزدگی کا شکار ہو گیا تھا) کے گھر کی تعمیر کے لیے “لیتری” کا اہتمام کیا گیا۔ اس رضاکارانہ کام میں ڈنہ، جانوئی، ڈوگہ، بوڑھی ناڑ اور جندرسیری سمیت مضافاتی علاقوں سے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
“لیتری” کیا ہے؟
کشمیر کے دیہی معاشرے میں جب کوئی کام انفرادی طور پر کرنا مشکل ہو، تو گاؤں کے لوگ بلا معاوضہ اور رضاکارانہ طور پر مل جل کر اسے سرانجام دیتے ہیں، جسے مقامی زبان میں “لیتری” کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد کسی ضرورت مند بھائی کی مدد کرنا اور معاشرے میں اجتماعیت کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم: دواریاں کے مقام پر گاڑی دریا میں جا گری، 3 افراد زخمی، ڈرائیور لاپتہ
کام کا انوکھا انداز اور نظم و ضبط:
لیتری میں کام کرنے کا طریقہ کار انتہائی منظم ہوتا ہے۔ نوجوانوں کے مختلف گروپ بنا دیے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے جوش و خروش سے کام کرتے ہیں۔ کام کے دوران ہنسی مذاق اور بیت بازی کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے، جس سے تھکن کا احساس نہیں ہوتا۔ بزرگ اس تمام عمل کی سرپرستی کرتے ہیں۔
اس لیتری میں بھی مختلف ٹیمیں تقسیم تھیں:
واٹر اینڈ ٹی گروپ: قریبی چشموں سے ٹھنڈا پانی لانے اور چائے پلانے کی ذمہ داری اس گروپ کی تھی جس میں تحریر نگار خود بھی شامل تھے۔
ککنگ ٹیم: کھانے کے لیے “ون ڈش” (چکن پلاؤ اور شوربہ) کا اہتمام کیا گیا۔ اس ٹیم کی سربراہی ایوارڈ یافتہ کک اسلم منہاس، گلاب منہاس، قاری غلام سرور پردیسی، خان منہاس اور جاوید منہاس نے کی۔
انتظامیہ: سردار سرفراز منہاس، خالو خورشید مغل، حاجی ملک امان اور انور سعید منہاس نے کام کی رفتار تیز رکھنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے فرائض انجام دیے۔
چیدہ شخصیات کی شرکت:
اس سماجی کام میں کونسلر جانوئی سردار شاہد اقبال منہاس، یوتھ کونسلر بشیر احمد مغل، قاری عبدالرحمن ثاقب، قاری مجیب احمد اعوان، راجہ شاہد محمود عاشی، ڈاکٹر عمران منہاس اور دیگر سماجی و مذہبی شخصیات نے بھرپور حصہ لیا۔
مزید پڑھیں: اہلِ نیلم آئندہ انتخابات میں متحد ہو کر (ن) لیگ اور شاہ غلام قادر کا ساتھ دیں، ارشد میر
دم توڑتی روایات کو بچانے کی ضرورت:
اگرچہ جدید دور کی این جی اوز آج جس “سماجی بہبود” کا درس دیتی ہیں، اسلام نے وہ درس چودہ سو سال پہلے بھائی چارے کی صورت میں دیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لیتری جیسی روایات ہمارے معاشرے کا اصل اثاثہ ہیں، لیکن بدقسمتی سے وقت کے ساتھ یہ دم توڑ رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو اس قدیم ثقافت سے روشناس کرایا جائے تاکہ معاشرہ انفرادیت کے بجائے ایک بار پھر اجتماعیت کی طرف راغب ہو سکے۔




