امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پاکستان کی بڑی سفارتی جیت ہے، راجہ فاروق حیدر خان

مظفرآباد: سابق وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں پیشرفت کو خوش آئند قرار دے دیا۔

راجہ فاروق حیدر خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی درخواست پر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی پیشرفت پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا کہا گیا تاکہ تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے۔

سابق وزیراعظم نے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جانی و مالی نقصان کے باوجود پاکستان کی درخواست کو مثبت انداز میں قبول کیا، ہم ایرانی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس پیشرفت سے سب سے زیادہ پریشانی ہندوستان اور اسرائیل کو ہے، مگر اللہ جسے عزت دے اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران جنگ بندی کا دنیا بھر میں خیرمقدم، پاکستان کے سفارتی کردار کی بھرپور پذیرائی

راجہ فاروق حیدر خان نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دنیا بھر کے میڈیا اور حکومتوں میں پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔

انہوں نے دعا کی کہ مذاکرات کامیاب ہوں اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ ایران کی خودمختاری اور عرب ریاستوں کا استحکام خطے کے امن کے لیے ضروری ہے اور برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ مل کر مسلم ممالک ترقی کریں۔

لبنان اور فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم لبنان کے عوام کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقدامات نے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ فلسطین کو آزادی ملے اور خطے میں مستقل امن قائم ہو۔

راجہ فاروق حیدر خان نے آخر میں اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان وہ مقام ضرور حاصل کرے گا جس کا خواب بانی پاکستان محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ افغانستان کے ساتھ مسائل حل ہوں گے اور خطہ امن کا گہوارہ بنے گا، جبکہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: جنگ بندی کا اعلان: تہران کی سڑکوں پر جشن، عوامی حلقوں میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف شکوک و شبہات

Scroll to Top