امریکا اور ایران جنگ بندی کا دنیا بھر میں خیرمقدم، پاکستان کے سفارتی کردار کی بھرپور پذیرائی

پاکستان کی ایک بہت بڑی سفارتی جیت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے پاکستان کے لیے تعریفی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی رہنماؤں اور اداروں کا کہنا ہے کہ خطے کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے بہترین ثالث کا کردار نبھایا اور ایک بڑی تباہی کو روکنے میں کامیاب رہا۔

عالمی اداروں اور اہم ممالک کا ردعمل:

اقوام متحدہ کا خیرمقدم:
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ انہوں نے شہریوں کے تحفظ اور انسانی نقصان کو کم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے 10 نکاتی منصوبے میں کون سے بڑے مطالبات شامل ہیں؟

برطانیہ اور نیوزی لینڈ کا پیغام:
پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اس اہم کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے “خاموش اور مؤثر سفارتی کردار” ادا کرنے پر وہ پاکستان کی شکر گزار ہیں۔ نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی اس بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے پاکستان، ترکی اور مصر جیسی ریاستوں کی کوششوں کی تعریف کی۔

آسٹریلیا اور ملائیشیا کا اعتراف:
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم نے تنازع میں کمی کے لیے ثالثوں بشمول پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی تمام فریقین سے بلا خوف و خطر بات چیت کی کوششیں مسلم یکجہتی اور بین الاقوامی ذمہ داری کی اعلیٰ ترین روایات کی عکاسی کرتی ہیں۔

امریکی ڈیموکریٹس اور دیگر ممالک:
امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی ہاؤس کمیٹی برائے خارجہ امور کے رکن گریگوری میکس نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکی فوجیوں اور شہریوں کی جانیں بچیں گی، جس میں پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے۔ مصر اور انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی اسے سفارتکاری کا اہم موقع قرار دیا، جبکہ جاپان نے اسے ایک مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ پر زور دیا۔

پاکستان کی کوششیں رنگ لے آئیں

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ‘پوری تہذیب تباہ کرنے’ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں محض چند گھنٹے باقی تھے کہ انہوں نے حملوں کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ فیصلہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: جنگ بندی کا اعلان: تہران کی سڑکوں پر جشن، عوامی حلقوں میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف شکوک و شبہات

اس اعلان کے بعد ایران نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب امریکہ کے ساتھ 10 نکاتی ایجنڈے پر مذاکراتی عمل 15 روز کے لیے اسلام آباد میں جمعے سے شروع ہو گا۔ دنیا بھر کے ممالک نے پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کی ان ثالثی کوششوں کو سراہا ہے جنہوں نے دنیا کو ایک ہولناک جنگ سے بچا لیا۔

Scroll to Top