عالمی طاقت کا توازن اور ولادیمیر پوتن: روس کی بحالی سے نئے عالمی نظام تک کی مکمل کہانی

موجودہ دور کی بین الاقوامی سیاست میں روسی صدر ولادیمیر پوتن ایک ایسی شخصیت بن کر ابھرے ہیں جن کے اقدامات عالمی سطح پر دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان کی قیادت میں روس نے نہ صرف اپنی داخلی طاقت کو مجتمع کیا بلکہ خود کو ایک ایسی قوت کے طور پر بھی منوایا جو عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

ولادیمیر پوتن کا اقتدار میں آنے کا سفر انتہائی چیلنجنگ رہا۔ سن 2000 میں جب انہوں نے زمامِ اقتدار سنبھالی تو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس معاشی عدم استحکام اور کمزور ریاستی ڈھانچے کا شکار تھا۔ پوتن کی اولین ترجیح ملکی معیشت کو سہارا دینا اور وفاقی نظام کو مضبوط بنانا تھا۔ انہوں نے توانائی کے شعبے، خصوصاً تیل اور گیس کو ریاستی آمدن کا بنیادی ذریعہ بنایا، جس نے روسی خزانے کو استحکام بخشا اور عالمی منڈیوں میں ماسکو کا اثر و رسوخ بڑھا دیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے پاکستان کی تجویز مان لی، ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے بمباری روک دی

عسکری میدان میں بھی پوتن نے انقلابی تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ روسی افواج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنا اور دفاعی نظام کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ان کی پالیسی کا اہم حصہ رہا۔ خارجہ پالیسی کے محاذ پر انہوں نے ‘کثیر قطبی دنیا’ (Multipolar World) کا نظریہ پیش کیا، جس کا مقصد عالمی طاقت کو ایک مرکز سے نکال کر مختلف علاقائی طاقتوں میں تقسیم کرنا ہے تاکہ توازنِ برقرار رہے۔

یوکرین کے معاملے پر روس کا بیانیہ یہ رہا ہے کہ نیٹو کی مشرق کی جانب مسلسل پیش قدمی اس کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تھی۔ ماسکو کے مطابق یہی وجہ تھی کہ اسے اپنے سرحدی تحفظ کے لیے ‘خصوصی فوجی کارروائی’ کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے روس ہمیشہ سفارتی مذاکرات اور ثالثی کا حامی رہا ہے۔

فلسطین کے دیرینہ تنازع پر بھی پوتن کی پالیسی واضح رہی ہے۔ روس مسلسل ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور ‘دو ریاستی حل’ کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ موقف خطے میں مستقل امن کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان بھر کے ہوائی اڈوں پر 58 پروازیں منسوخ، ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے

روسی تاریخ میں 9 مئی کو ‘وکٹری ڈے’ کے طور پر منایا جاتا ہے، جو دوسری جنگ عظیم میں فتح کی یاد دلاتا ہے۔ ہر سال اس موقع پر صدر پوتن کا خطاب عالمی مبصرین کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس سال کے خطاب میں وہ یوکرین کی موجودہ صورتحال اور بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے پر روس کی آئندہ حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔

Scroll to Top