معروف یوٹیوبر، جو بڑے بڑے بھارتی اینکرز کی بولتی بند کر دینے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، اب وادیٔ لیپا سے الیکشن لڑنے کے لیے میدان میں آ چکے ہیں۔ حلقہ نمبر 7 لیپا ویلی کے آزاد امیدوار سید باسط علی اس وقت وادیٔ لیپا میں موجود ہیں۔کشمیر ڈیجیٹل کی اُن سے ایک خصوصی نشست ہوئی جس میں انہوں نے تمام اہم اور براہِ راست سوالات کے نہایت کھل کر جواب دیے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے لاہور کی شاہانہ اور پُرسکون زندگی چھوڑ کر صرف عوامی خدمت کے جذبے سے الیکشن کا میدان کیوں چنا، تو سید باسط علی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے لوگوں کے حالات دیکھے ہیں۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ مرنے کے بعد تو یہیں آنا ہے، تو کیوں نہ اس سے پہلے اپنے لوگوں کے کام آؤں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہر صورت آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں گے اور وہ کسی کے کہنے پر نہیں بیٹھ سکتے کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے الیکشن کے اعلان کے وقت سے ہی کسی نہ کسی طرح اپنے علاقے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیپہ ویلی میں باسط بحاری کی انٹری ، پہلے دورہ پردرجنوں افراد نے حمایت کردی
اس سوال پر کہ کیا وہ کسی کے ایما پر الیکشن لڑ رہے ہیں یا انہیں لانچ کیا گیا ہے، سید باسط علی نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس تاثر میں کوئی صداقت نہیں ہے اور وہ کسی کے ایما پر میدان میں نہیں آئے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور شوکت نواز میر کے ساتھ تصاویر میں نظر آنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم عوام ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایکشن کمیٹی کا نام استعمال نہیں کرنا چاہتے لیکن کمیٹی میں جو فیصلہ ہوگا وہ انہیں منظور ہوگا۔ کشمیر ڈیجیٹل کے اینکر پرسن کے خلاف درج ایف آئی آر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ میں جانتا نہیں کیا معاملہ ہے، دیکھوں گا تو بتاؤں گا۔
سید باسط علی نے اپنے منشور کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح مساجد و مدارس کی تعمیرومرمت ہے کیونکہ دین ہے تو سب کچھ ہے۔ دوسرا یہ کہ وہ فنڈز کے استعمال پر کھلی کچہری لگائیں گے اور عوام کو فنڈز دکھا کر ان سے پوچھیں گے کہ یہ کہاں خرچ کرنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو اپنے منشور پر نہ رہے وہ سیاست کے لائق نہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ کا مقابلہ بڑےسیاستدانوں سے ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ جو اپنے علاقے کو پانی، صحت اور روزگار نہ دے سکے میں انہیں بڑا کیسے مانوں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ جیتنے کے بعد ہسپتال، واٹر فلٹریشن، کچرا اٹھانے کا جدید نظام لائیں گے اور تحریک آزادی کے لیے صرف باتیں نہیں بلکہ عملی اور ٹیکنیکل کام کریں گے۔




