ملک میں جاری مہنگائی کی لہر کے دوران عوام کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے۔ جہاں گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں 100 سے 150 روپے فی کلو تک کے بھاری اضافے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان بناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) نے واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور بجلی کے بھاری نرخوں نے گھی ملوں کی پیداواری لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا دیا ہے۔
ایڈوائز پی وی ایم اے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ناصرف کارخانوں کے اندر پروڈکشن لاگت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مال کی ترسیل یعنی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں پرانی قیمتوں پر کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ اور اگر حکومت نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل کرنا پڑے گا جس سے گھی اور تیل کی قیمتیں 150 روپے فی کلو تک بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سستا پیٹرول حاصل کرنے کے لیے موٹر سائیکل سوار اب دستک ایپ ڈاؤن لوڈ کریں
ایڈوائز پی وی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطح کا ‘پینل’ تشکیل دیا جائے جو مینوفیکچررز اور حکومتی نمائندوں پر مشتمل ہو۔ اس پینل کا مقصد قیمتوں میں کمی کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالنا اور صنعت کو درپیش مالی مشکلات کا حل تلاش کرنا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ اپریل 2026 کے ان حالات میں اگر خوردنی اشیا کی قیمتوں میں ایسا بڑا اضافہ ہوا تو یہ عام آدمی کی قوتِ خرید سے مکمل طور پر باہر ہو جائے گا۔ جس سے ملک میں غذائی تحفظ کا نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا خوردنی تیل بڑے پیمانے پر درآمد کرتا ہے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی قدر کا براہِ راست اثر مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی بحران اور بجلی و پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے مقامی صنعت کاروں کے لیے خام مال کی تیاری اور ترسیل کو انتہائی مہنگا کر دیا ہے جس کے نتیجے میں اب قیمتوں میں اس بڑے اضافے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔




