مظفر آباد (کشمیر ڈیجیٹل): سینئر صحافی اور تجزیہ کار خواجہ اے متین نے ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کی جانب سے ‘کشمیر ڈیجیٹل’ کے اینکر مجتبیٰ بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
خواجہ اے متین کا کہنا ہے کہ شوکت نواز میر ایک جتھہ لے کر تھانے پہنچ گئے تاکہ مجتبیٰ بٹ کے خلاف مقدمہ درج کروایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ مجتبیٰ بٹ کا “جرم” صرف یہ ہے کہ انہوں نے پچھلے دنوں حریت رہنما عبدالحمید لون کا انٹرویو کیا تھا، جس میں عبدالحمید لون نے شوکت نواز میر پر سنگین قسم کے الزامات لگائے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شوکت نواز میر کی جانب سے مجتبیٰ بٹ پر ایف آئی آر کی درخواست، صحافتی حلقوں کا شدید ردعمل
تجزیہ کار خواجہ اے متین نے سوال اٹھایا کہ اس معاملے میں میزبان (اینکر) کا کیا قصور ہے؟ انہوں نے کہا کہ صحافی کا کام انٹرویوکرنا ہے اور اگر شوکت نواز میر کو عبدالحمید لون کے بیان پر کوئی اعتراض تھا، تو وہ مجتبیٰ بٹ کے پروگرام میں بیٹھ کر ان سوالات کے جوابات دیتے اور اپنا موقف پیش کرتے۔
خواجہ اے متین نے مزید کہا کہ شوکت نواز میر نے پہلے اپنے خلاف ہونے والی ایک ایف آئی آر کو آزادیِ رائے پر قدغن قرار دیا تھا، لیکن اب وہ خود ایک صحافی کے خلاف تھانے میں درخواست دے رہے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایک صحافی کے خلاف پولیس پر دباؤ ڈالنے کے لیے جتھہ لے کر جانا ایک “قابلِ مذمت فعل” ہے اور وہ بطور صحافی اس عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بطور آزاد صحافی مجھے پارٹی بنانے پر شوکت نواز میر سے جواب عدالت میں لوں گا،محمد مجتبیٰ بٹ
ان کا کہنا تھا کہ شوکت نواز میر کو چاہیے کہ وہ قانونی کارروائی کرنی ہے تو حریت رہنما کے خلاف کریں جنہوں نے الزامات لگائے، نہ کہ اس صحافی کے خلاف جس نے صرف اپنا پیشہ ورانہ فریضہ سرانجام دیا ہے۔




