ترک صدر رجب طیب اردوان اور نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں عالمی سطح پر بڑ ھتاہو اتناؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تفصیلی بات چیت کی گئی ۔
ترک صدر نے اس موقع پر زور دیا کہ ایران میں جاری تنازع کے فوری خاتمے کیلئےعالمی برادری کو اپنی کوششیں د گنا کر نا ہوں گی ۔ اردوان کے مطابق عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کو مل کر اس جنگ کو روکنے کی کوششیں تیز کرنی چاہیے تاکہ خطے میں انسانی بحران اور جیو اسٹریٹجک مسائل کا حل نکالا جا سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس ملاقات میں ترک صدر اردوان کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے
اردوان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے خطے میں جیو اسٹریٹجک بندش پیدا کر دی ہے، جس کا اثر نہ صرف علاقائی امن پر پڑ رہا ہے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مسئلے کا فوری اور پائیدار حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں مزید تنازعات سے بچا جا سکے ۔
نیٹو سربراہ مارک روٹے نے بھی اس گفتگو میں اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو عالمی سلامتی کے فروغ کیلئےہمیشہ پرعزم ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے ترک حکومت کیساتھ قریبی رابطہ رکھے گا ۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں انسانی حقوق کی پاسداری اور امن قائم رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی تعاون کے بغیر ایران میں جاری تنازع کو ختم کرنا مشکل ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فلسطین پر خاموش نہیں رہیں گے : ترک صدر کا دو ٹوک اعلان
ترک صدر کی یہ گفتگو عالمی برادری کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے فوری اقدامات ضروری ہیں اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا فوجی بندش خطے کی سلامتی کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ۔ اردوان نے امید ظاہر کی کہ عالمی طاقتیں مل کر مثبت کردار ادا کریں گی اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کریں گی ۔




