درخواست

شوکت نواز میر کی جانب سے مجتبیٰ بٹ پر ایف آئی آر کی درخواست، صحافتی حلقوں کا شدید ردعمل

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل)جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کی جانب سے کشمیر ڈیجیٹل سے وابستہ صحافی محمدمجتبیٰ بٹ اور آزاد کشمیر پریس فاؤنڈیشن کے سابق وائس چیئرمین سید ابرار حیدر کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست پر صحافتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

یہ درخواست اس وقت سامنے آئی جب صحافی محمدمجتبیٰ بٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما عبدالحمید لون کا انٹرویو کیا ۔ اس انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے شوکت نواز میر نے متعلقہ حکام سے قانونی کارروائی کی درخواست دی ۔

اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ممبر بورڈ آف گورنرز پریس فاؤنڈیشن و ایڈیٹر ’’جموں و کشمیر ‘‘ شہزاد احمد راٹھور، کشمیر انقلابی کونسل کے چیئرمین سید فرحت عباس کاظمی اور دیگر صحافیوں نے مشترکہ میڈیا ٹاک کی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بطور آزاد صحافی مجھے پارٹی بنانے پر شوکت نواز میر سے جواب عدالت میں لوں گا،محمد مجتبیٰ بٹ

مقررین نے اپنے خطاب میں اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنا آزاد ی صحافت پر حملہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی صحافی کے خلاف محض انٹرویو کرنے پر ایف آئی آر کی درخواست دینا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ یہ ایک خطرناک روایت کو جنم دے سکتا ہے ۔

میڈیا ٹاک میں شریک رہنماؤں نے شدید الفاظ میں مذمت  کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دینے کی ضمانت فراہم کی جائے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:شوکت نواز میرکی اوورسیز کمیونٹی سے کشمیری مہاجرین کیخلاف مہم شروع کرنے کی اپیل، عبدالحمید لون کا انکشاف

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ صحافی برادری کسی بھی قسم کے دباؤ یا قدغن کو قبول نہیں کرے گی اور آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

Scroll to Top