لاہور ہائیکورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ اور غیر شفاف اضافے کے خلاف ایک نئی متفرق درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر اس درخواست میں حکومت کی پیٹرولیم پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قیمتوں کے تعین کے عمل میں فوری مداخلت کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے کوئی شفاف قانونی فارمولا سرے سے موجود ہی نہیں۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کے باوجود پاکستان میں صارفین کو پیٹرول دگنی قیمت پر فراہم کیا جا رہا ہے، جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل نے عدالت میں سوال اٹھایا کہ اگر حکومت اب پیٹرول 80 روپے فی لیٹر سستا کر رہی ہے، تو اس سے قبل قیمتوں میں اس قدر بھاری اضافہ کس بنیاد پر کیا گیا تھا؟ کیا یہ اضافہ کسی قانونی ضابطے کے تحت تھا یا صرف انتظامی صوابدید پر مبنی تھا؟
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول 80روپے فی لیٹر سستا، وزیراعظم نے قوم کو بڑی خوشخبری سنادی
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پیٹرولیم قیمتوں کا اب تک کا تمام ریکارڈ طلب کیا جائے اور حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ قیمتوں کے تعین کے لیے نیپرا یا اوگرا کی طرز پر ایک مکمل خود مختار اور شفاف ریگولیٹری نظام قائم کرے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ایک خود مختار نظام کی عدم موجودگی میں مستقبل میں بھی قیمتوں میں غیر واضح اضافے اور کمی کا خدشہ رہے گا، جس کا براہِ راست اثر ملک کی معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اس معاملے کو عوامی مفاد کا کیس قرار دیتے ہوئے قیمتوں کے تعین کا ایک مستقل اور منصفانہ طریقہ کار وضع کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔




