اگر عوامی ایکشن کمیٹی حقوق کی بات کرتی ہے تو آسیہ اندرابی کی سزا پر کیوں خاموش رہی،عبدالحمید لون نے کھری کھری سنا دیں

حریت رہنما اور فرینڈز آف کشمیر کے وائس چیئرمین عبدالحمید لون نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی پر کئی سوالات اٹھا دیے۔

عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف ایجنڈا چلانا اور نفرتیں پیدا کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی حقوق پر بات کرنا کوئی بری بات نہیں، لیکن اس کی آڑ میں غیر قانونی اور غیر آئینی مطالبات سامنے لانا، ریاست کے خلاف پلیٹ فارم مہیا کرنا اور انتشار کو ہوا دینا ایک ایسا عمل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ عبدالحمید لون نے سوال اٹھایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے جو مطالبات پیش کیے، کیا ان میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بہن بھائیوں کا ذکر تھا؟ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ اندرابی کو سزا سنائی گئی لیکن کیا ایکشن کمیٹی میں اتنی بھی غیرت نہیں تھی کہ ان کے حق میں دو لفظ ہی بول دیتے؟ یہ کشمیریوں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔

’را‘ افسر کی ملاقات اور کروڑوں روپے کی آفر:

کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں سینئر صحافی مجتبیٰ بٹ سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالحمید لون نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل امریکہ کے دورے کے دوران ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی جس نے اپنا تعارف سری نگر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے کمشنر (وائسرائے) کے طور پر کرایا۔ مذکورہ افسر ان کے تمام بائیو ڈیٹا سے واقف تھا اور اس نے آفر دی کہ اگر وہ بھارت کے لیے کام کریں تو انہیں دنیا بھر میں پراپرٹی، گھر اور ہر قسم کا مالی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ را افسر کا کہنا تھا کہ عبدالحمید لون کا پاکستان میں صحافیوں، سیاستدانوں اور عالمی سفارت کاروں تک وسیع اثر و رسوخ ہے، جسے بھارت اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری اسحاق طاہر مرحوم کی فیملی پیپلز پارٹی میں شامل، پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا

عوامی ایکشن کمیٹی اور گلگت بلتستان کے لیے فنڈنگ کا منصوبہ:

عبدالحمید لون نے تہلکہ خیز انکشاف کیا کہ را افسر نے انہیں عوامی ایکشن کمیٹی تک کروڑوں روپے پہنچانے کے عوض 60 لاکھ پاکستانی روپے کمیشن کی آفر کی۔ را افسر نے ان سے شوکت نواز میر کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ اگر وہ ایک کروڑ روپے ایکشن کمیٹی تک پہنچا دیں تو انہیں بھاری رقم دی جائے گی۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں اہل تشیع کے علماء کرام تک رقوم اور مخصوص پیغامات پہنچانے کے بدلے بھی ’مالا مال‘ کرنے کا لالچ دیا گیا۔

پاک فوج کے افسران کو بدنام کرنے کی سازش:

دورانِ گفتگو بھارتی ایجنٹ نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیکٹر کمانڈرز، بالخصوص مظفرآباد میں تعینات بریگیڈیئر فائق کا نام لیا اور کہا کہ بھارت چاہتا ہے کہ وہاں کے یوٹیوبرز، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ایکٹیوسٹس کو متحرک کر کے پاک فوج کے ان افسران کو بدنام کیا جائے۔ را افسر نے یہاں تک کہا کہ اگر وہ یہ کام کر دیں تو انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر میں اہم سیاسی عہدہ یا ایم ایل اے کی سیٹ بھی دی جا سکتی ہے اور کسی بھی مشکل صورتحال میں بھارت انہیں ریسکیو کرے گا۔

عبدالحمید لون کا کرارا جواب:

حریت رہنما نے بتایا کہ انہوں نے ان تمام آفرز کو ٹھکراتے ہوئے بھارتی افسر کو کھری کھری سنا دیں کہ “ہم تمہاری اس دولت پر تھوکتے بھی نہیں، اگر ہم نے بکنا ہوتا تو اپنے لاکھوں جوانوں اور ماؤں بہنوں کی قربانیاں نہ دیتے”۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر کی آزادی ایک مقدس مقصد ہے اور ہر کشمیری سید علی گیلانی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جینا مرنا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں: آزادکشمیر، گلگت بلتستان میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی فنڈنگ: عبدالحمید لون کے ہوشربا انکشافات

بیرونی فنڈنگ اور نام نہاد نیشنلسٹ:

عبدالحمید لون نے انکشاف کیا کہ یورپ میں بیٹھے نام نہاد نیشنلسٹ جیسے شوکت کشمیری، شمیم چوہدری اور طارق لالہ بھارتی ایجنسیوں کے آلہ کار ہیں جو وہاں سے ڈالر وصول کر کے عوامی ایکشن کمیٹی کو فنڈنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 500 روپے دیہاڑی کمانے والے عام تاجروں کے پاس اچانک کروڑوں کی پراپرٹی، پراڈو گاڑیاں اور کوٹھیاں کہاں سے آ گئیں؟ انہوں نے سیکیورٹی اداروں اور ایجنسیوں سے مطالبہ کیا کہ حالات مزید خراب ہونے سے قبل ان افراد کے سورس آف انکم کی باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں کیونکہ اس سارے پیسے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔

Scroll to Top