حج وعمرہ میں رش کنٹرول کے لیے سعودی عرب کا جدید اور مؤثر ٹیکنالوجی نظام سامنے آگیا

سعودی عرب نے حج وعمرہ کے دوران لاکھوں زائرین کے ہجوم کو محفوظ، منظم اور پرسکون رکھنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا ایک مربوط اور مؤثر نظام قائم کر رکھا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک مثالی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔

مکہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ جیسے مقدس مقامات پر بیک وقت لاکھوں افراد کی موجودگی کو کنٹرول کرنا ایک غیر معمولی چیلنج ہوتا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سعودی حکام ڈیجیٹل اور سمارٹ سسٹم کا وسیع استعمال کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق لوگوں کو منظم رکھنے کے انتظام میں سب سے اہم کردار مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ادا کر رہے ہیں۔ یہ نظام زائرین کی نقل وحرکت، رفتار اور اجتماع کے رجحانات کا مسلسل تجزیہ کرتے ہیں۔

یہ سسٹم ہجوم کی شدت، دباؤ اور ممکنہ خطرات کی فوری نشاندہی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی پیشگی تجزیاتی صلاحیت کے ذریعے کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے پہلے ہی خبردار کر دیتے ہیں۔ اس طرح انتظامیہ بروقت اقدامات کر کے حادثات، خاص طور پر بھگدڑ جیسے خطرناک واقعات سے بچاؤ ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عازمین حج کیلئے پاک حج ایپ پر اہم سوالنامہ جاری، جواب کی ڈیڈ لائن مقرر

مقدس مقامات پر ہزاروں کی تعداد میں نصب جدید کیمرے 24 گھنٹے نگرانی کرتے ہیں۔ یہ کیمرے نہ صرف ہجوم کی تعداد کا اندازہ لگاتے ہیں بلکہ غیر معمولی حرکات یا خطرناک صورتحال کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ تمام معلومات مرکزی کنٹرول رومز میں موجود ماہرین تک پہنچتی ہیں، جہاں جدید سافٹ ویئر کے ذریعے فوری فیصلے کیے جاتے ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو بروقت ہدایات دی جاتی ہیں۔

اسی طرح فضائی نگرانی کے لیے ڈرونز کا استعمال بھی اس نظام کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہ ڈرونز بڑے اجتماعات، داخلی و خارجی راستوں اور حساس مقامات پر نظر رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تھرمل کیمرے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جو اندھیرے یا خراب موسمی حالات میں بھی مؤثر نگرانی ممکن بناتے ہیں۔

واضح رہے کہ جیو اسپیشل سسٹمز کے ذریعے نہ صرف پیدل ہجوم بلکہ ٹریفک کے بہاؤ کو بھی منظم کیا جاتا ہے۔ یہ نظام مختلف راستوں پر رش کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں اور متبادل راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے زائرین کو سہولت ملتی ہے اور دباؤ کم ہوتا ہے۔

ڈیجیٹل ایپس نے بھی اس نظام میں انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ نسک اور توکلنا جیسی موبائل ایپس کے ذریعے زائرین کو پیشگی اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں۔ اسمارٹ گیٹس پر ان اجازت ناموں کی تصدیق کی جاتی ہے، جس سے نظم و ضبط برقرار رہتا ہے۔

سیکیورٹی کے میدان میں بائیومیٹرک نظام بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ چہرے کی شناخت اور فنگر پرنٹ کے ذریعے زائرین کی شناخت تیز، محفوظ اور مؤثر ہوگئی ہے۔ اس سے گمشدہ افراد کی تلاش اور سیکیورٹی خدشات پر کنٹرول ممکن ہوا ہے۔

زائرین کی سہولت اور حفاظت کے لیے اسمارٹ بریسلٹس بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں ذاتی معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ یہ بریسلٹس بچوں اور بزرگوں کے لیے خاص طور پر مفید ہیں کیونکہ ان کے ذریعے گمشدہ افراد کو فوری تلاش کیا جا سکتا ہے اور ہنگامی صورتحال میں طبی امداد فراہم کی جا سکتی ہے۔

حج کے دوران نقل وحرکت کو منظم رکھنے کے لیے ٹرانسپورٹ سسٹم کو بھی مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ ہزاروں بسوں، ٹرینوں اور دیگر ذرائع کو ایک مرکزی سسٹم کے تحت چلایا جاتا ہے، جس سے زائرین کو بروقت اور محفوظ طریقے سے مختلف مقامات تک منتقل کیا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق حالیہ عمرہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے نہ صرف سیکیورٹی کو مضبوط بنایا بلکہ مجموعی طور پر زائرین کے تجربے کو بھی بہتر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: حج 2026: عازمینِ حج کے لیے پاک حج ایپ پر میڈیکل فارم بھرنا لازمی قرار

یاد رہے کہ سعودی عرب نے حج وعمرہ کے دوران ازدحام کے انتظام کے لیے مصنوعی ذہانت، ڈرونز، جدید کیمرے، ڈیجیٹل ایپس اور بائیومیٹرک نظاموں کو یکجا کر کے ایک مربوط ماڈل پیش کیا ہے، جو دنیا کے دیگر بڑے اجتماعات کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام اس بات کی واضح مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی جانوں کے تحفظ اور سہولت کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top