ایران جنگ کے باعث متحدہ عرب امارات میں ’مواقع سے فائدہ‘ اٹھاتے پاکستانیوں کی کہانی

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق بیرون ملک جانے کے خواہشمند انیق بٹ گزشتہ ایک سال سے دبئی کے ویزے کے انتظار میں تھے اور پاکستان کے حالات کی وجہ سے پریشان تھے۔ وہ متحدہ عرب امارات جا کر روزگار کمانا چاہتے تھے کہ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس کے بعد سے تہران کی جانب سے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ریاستوں میں جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔

انیق بٹ (جن کا نام تحفظ کے لیے تبدیل کیا گیا ہے) نے بی بی سی کو بتایا کہ اس جنگ میں ’بہت سارے لوگوں کا نقصان ہو گیا (مگر) وہیں ہمیں یہ فائدہ ہوا ہے کہ نہ صرف میرا دبئی کا ویزا جاری ہو گیا بلکہ میں یہاں آ کر اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ان کے کاروبار میں ہاتھ بھی بٹانے لگا ہوں۔‘ انیق اِن پاکستانیوں میں شامل ہیں جنھوں نے طویل تاخیر کے بعد اچانک ویزا مل جانے پر تمام تر خطرات کے باوجود دبئی اور ابو ظہبی کے ٹکٹ کٹوائے اور وہاں پہنچ گئے۔ رپورٹ کے مطابق اس تاخیر کی وجہ بظاہر متحدہ عرب امارات میں ویزا پالیسی کی تبدیلی تھی۔ جبکہ پاکستان نے بھی گذشتہ مہینوں کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر ہزاروں مسافروں کو آف لوڈ کیا ہے تاکہ پاسپورٹ کی ساکھ بحال کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں: فری لانسرز کے لیے بڑی خوشخبری: جرمنی نے ’اسپیشل ویزا‘ پروگرام متعارف کرا دیا

مزیدیہ کہ انیق بٹ کے بڑے بھائی ارحم 2002 سے دبئی میں مقیم ہیں اور وہاں گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ انھوں نے کئی سال بطور مکینک کام کیا مگر چار سال پہلے اپنی ورکشاپ قائم کی ہے۔ وہ دبئی میں لوگوں کی گاڑیاں مرمت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حادثے کا شکار گاڑیوں کو نیلامی میں خرید کر انھیں ری کنڈیشن کر کے بیچنے میں اچھا منافع مل جاتا ہے۔ ارحم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے لیے اب بھی دبئی ’دنیا کی جنت ہے جس نے مجھے زیرو سے اس مقام پر پہنچایا۔‘

مزید پڑھیں: ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا ایک ہزار اسکالرشپس دینے کا اعلان

Scroll to Top