عمان میں انسانیت کی اعلیٰ مثال قائم کرنے والے پاکستانی نوجوان شہزاد خان کی بہادری نے سب کے دل جیت لیے ہیں۔ 21 مارچ کو عید کے دوسرے دن، جب عمان کا دارالحکومت مسقط اور گردونواح موسلادھار بارشوں کی لپیٹ میں تھے، چارسدہ سے تعلق رکھنے والے شہزاد خان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ڈوبتی گاڑی سے دو افراد کو بچا لیا۔
تفصیلات کے مطابق، مسقط سے تقریباً 45 کلومیٹر دور ولایہ برکاء کے قریب بارش کے باعث پیدا ہونے والے ریلے نے ٹریفک کو مکمل طور پر روک دیا تھا۔ اسی دوران ایک گاڑی پانی کے تیز بہاؤ میں بہتی ہوئی پل کے نیچے نظر آئی۔ وہاں موجود سینکڑوں لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے، مگر پانی کا بہاؤ اتنا شدید تھا کہ کسی میں آگے بڑھنے کی ہمت نہیں تھی۔
خیبر پختونخوا کے علاقے چارسدہ کے رہائشی شہزاد خان نے کسی خطرے کی پرواہ نہیں کی اور بپھرے ہوئے ریلے میں کود گئے۔ جب گاڑی پل کے ایک ستون سے ٹکرا کر رکی، تو شہزاد خان نے نیچے اتر کر اور گاڑی کے دروازے کا لاک توڑ کر اس کے اندر پھنسے ہوئے دو افراد کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: یکم اپریل سے نجی تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہے جس میں شہزاد خان کی بہادری کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کے عینی شاہدین میں بسم اللہ جان بھی شامل ہیں جو شہزاد خان کے ساتھ ہی موجود تھے۔ ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’وہ میرے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ پانی کا تیز ریلا گزر رہا تھا۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک گاڑی پانی میں بہہ رہی ہے، اور اگلے ہی لمحے شہزاد اس کی طرف دوڑ پڑا۔ ہم سب نے اسے روکنے کی کوشش کی، مگر وہ نہیں رکا۔ جب گاڑی رکی تو میں نے ہی اسے لاک توڑنے کے لیے پتھر دیے تھے۔‘
شہزاد خان خود کہتے ہیں کہ ’وہاں تین سے چار سو لوگ موجود تھے، مگر پانی کا بہاؤ اتنا شدید تھا کہ کوئی قریب جانے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ میں خود کو روک نہیں سکا۔ جب گاڑی میرے قریب سے گزری تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص بے بسی سے مدد کے لیے ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس منظر نے ان کی آنکھوں کے سامنے سوات کے پرانے سانحات کی یاد تازہ کر دی تھی۔ اس بہادری پر شہزاد خان کو عالمی سطح پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔




