آزاد کشمیر میں نئے تعلیمی بورڈز کے قیام پر بحث چھڑ گئی ،حقیقت کیا ہے؟

آزاد جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام پر جاری بحث میں محمد شبیر اعوان کا موقف سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق نئے تعلیمی بورڈز کا قیام غیر ضروری اور علاقائی تعصب کو فروغ دینے والا اقدام سمجھا جا رہاہے، مگر زمینی حقائق اور انتظامی ضروریات اس کے برعکس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک منصفانہ اور جدید تعلیمی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے۔

ایک مرکزی نظام کی حدود:

آزاد کشمیر اسٹیٹ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میرپور گزشتہ کئی دہائیوں سے پورے آزاد کشمیر کے لیے خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ادارے نے ایک طویل عرصہ کامیابی سے نظام کو سنبھالا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی بڑھتے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہر سال نہم و دہم کے 70 سے 75 ہزار اور انٹر کے 45 سے 50 ہزار طلبہ امتحانات دیتے ہیں۔ یہ مجموعی بوجھ سالانہ 1 لاکھ سے 1.2 لاکھ امیدواروں تک جا پہنچتا ہے۔ اصل مسئلہ صرف تعداد نہیں بلکہ انتظامی پھیلاؤ اور سہولیات کی رسائی کا ہے۔ آزاد کشمیر کا جغرافیہ پہاڑی ہے، جہاں ایک مرکزی بورڈ کا تصور اب عملی طور پر کمزور پڑ چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد، راولاکوٹ میں نئے تعلیمی بورڈز کا مطالبہ، میرپور بورڈ کی وضاحت بھی آ گئی

آن لائن نظام: ایک ادھورا حل:

یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرائزڈ نظام سے مسائل حل ہو چکے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ اور بجلی کی فراہمی مستقل نہیں ہوتی۔ کئی طلبہ اور ادارے ڈیجیٹل سہولیات سے مکمل مستفید نہیں ہو پاتے، جس کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ کو اب بھی دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔

نئے بورڈز: سہولت اور کارکردگی کی طرف پیش رفت:

مظفرآباد اور راولاکوٹ میں نئے بورڈز کا مقصد تقسیم نہیں بلکہ سہولت کو بانٹنا ہے۔ اس کے اہم فوائد درج ذیل ہیں:

  • مقامی رسائی: طلبہ اور والدین کو اپنے ہی ڈویژن میں سہولیات ملیں گی، جس سے وقت اور اخراجات کم ہوں گے۔
  • انتظامی دباؤ میں کمی: تین بورڈز ہونے سے نظام زیادہ مؤثر اور تیز ہو جائے گا۔
  • شفافیت: مقامی سطح پر نگرانی بہتر ہونے سے نقل کے امکانات کم اور نتائج زیادہ قابلِ اعتماد ہوں گے۔
  • تعلیمی مسابقت: ہر بورڈ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرے گا جس سے مجموعی معیار بلند ہوگا۔

مالی اعتراضات اور آمدن کی حقیقت:

نئے بورڈز پر مالی بوجھ کا اعتراض درست نہیں۔ تعلیمی بورڈز کی آمدنی حکومت کے بجائے طلبہ کی فیسوں سے ہوتی ہے اور یہ ادارے اپنے اخراجات میں خود کفیل ہوتے ہیں۔ ایک بڑا مغالطہ یہ ہے کہ بورڈ کی آمدن کسی مخصوص علاقے جیسے میرپور کی ترقی پر خرچ ہوتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ فنڈز صرف ادارے کے اپنے انتظامی امور پر استعمال ہوتے ہیں۔ لہٰذا کسی علاقے کو مالی نقصان پہنچنے کا تصور ہی غلط ہے۔

تعصب کا تاثر یا منصفانہ تقسیم؟
نئے بورڈز کو تعصب قرار دینا غلط ہے، بلکہ یہ تینوں ڈویژنز کو مساوی سہولیات دینے کی کوشش ہے۔ اگر میرپور میں بورڈ ہے تو مظفرآباد اور راولاکوٹ کے طلبہ کو بھی وہی سہولت ملنی چاہیے، یہی اصل انصاف ہے۔ اسے برقرار نہ رکھنے کا مطلب مسائل کو جوں کا توں رکھنا ہے۔

مزید پڑھیں: حویلی کیلئے 23کروڑ کا گرڈ اسٹیشن منصوبہ لارہے ہیں، وزیراعظم فیصل ممتازراٹھور

اصلاحات کا وقت آ چکا:

آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام کے لیے یہ ایک ناگزیر قدم ہے۔ یہ کسی علاقے کے خلاف نہیں اور نہ ہی خزانے پر بوجھ ہے، بلکہ یہ ایک جدید اور مؤثر تعلیمی نظام کی بنیاد ہے۔ ہمیں تعلیم کو سیاست یا علاقائی سوچ سے ہٹ کر سہولت اور انصاف کے زاویے سے دیکھنا ہوگا۔

Scroll to Top