تل ابیب میں کوؤں کے پراسرار غول، سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں اور ماہرین کی رائے

اسرائیل میں تل ابیب شہر کی فضاؤں میں چکر لگاتےکوؤں کے بڑے بڑے غول کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ان مناظر نے جہاں کچھ لوگوں کو حیران کیا، وہیں کئی صارفین نے اسے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ’قیامت کی نشانی‘ قرار دے دیا ہے۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں کوے شہر کے اوپر منڈلا رہے ہیں اور بعض اوقات وہ ایک گھنے سیاہ بادل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

شہریوں نے بتایا کہ یہ منظر کئی گھنٹوں تک جاری رہا، جس کے باعث خوف اور تجسس دونوں میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور میزائل حملوں کی خبروں کے پس منظر میں ان مناظر نے عوامی تشویش کو مزید بڑھا دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ کچھ صارفین نے قدیم روایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرندوں کا اس طرح اکٹھا ہونا کسی بڑے سانحے یا تبدیلی کی علامت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر رومن علمِ فال کا ذکر کیا گیا، جس میں پرندوں کی حرکات و سکنات کو مستقبل کے واقعات کی پیشگوئی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ بعض افراد نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ یہ مناظر ’الٰہی تحفظ کے خاتمے‘ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت،اسرائیل بی ایل اے ، ٹی ٹی پی کی مالی معاونت کررہا ہے، بھارتی کرنل کا اعتراف

تاہم ماہرینِ ماحولیات اور ماہرینِ طیور نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ معروف ماہرِ طیور یارون چارکا کے مطابق یہ ایک بالکل فطری اور موسمی مظہر ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس وقت بہار کا موسم اپنے عروج پر ہے، جو پرندوں کی ہجرت کا اہم ترین دور ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کوے اور دیگر پرندے اس موسم میں بڑی تعداد میں سفر کرتے ہیں اور اکثر شہری علاقوں کے اوپر عارضی طور پر جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ ان کے قدرتی راستوں اور اجتماعی رویے کا حصہ ہے، نہ کہ کسی غیر معمولی یا مافوق الفطرت واقعے کی علامت۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ کوؤں کے اس طرح بڑے غول بنانے کے پیچھے کئی سائنسی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں شہری علاقوں میں خوراک کی وافر دستیابی، موسم میں اچانک تبدیلی، محفوظ اجتماعی قیام کی ضرورت اور شکاری جانوروں سے بچاؤ کے لیے ہجرت شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کوے ایک نہایت ذہین پرندہ ہیں اور اکثر اجتماعی حکمت عملی کے تحت حرکت کرتے ہیں، جس سے ان کے زندہ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ شہر کے کچھ رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے پہلے بھی ایسے مناظر دیکھے ہیں، مگر اس بار ویڈیوز کے وائرل ہونے سے یہ معاملہ غیر معمولی حیثیت اختیار کر گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اکثر عام قدرتی مظاہر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، جس سے غیر ضروری خوف پیدا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل کا ایف 16 طیارہ مار گرایا

Scroll to Top