واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں اب نئی قیادت آ چکی ہے اور اسے رجیم چینج کہا جا سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے آپریشن کے ذریعے ایران کی اس پوری قیادت کو ختم کر دیا ہے جو مسائل پیدا کرنے کی ذمہ دار تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب وہاں ایک نیا گروپ آیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے اور اب مذاکرات اسی نکتے سے شروع ہوں گے کہ تہران کے پاس ایٹمی صلاحیت اور یورینیم کی افزودگی نہیں ہونی چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ امریکہ نے ایران میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے اور اب وہاں بات کرنے کے لیے بھی کوئی نہیں بچا کیونکہ ایران کے پاس اب نہ کوئی نیوی ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی کوئی قیادت باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے یہ معلوم نہیں تھا کہ ایران میں کس سے بات کرنی ہے لیکن اب ہم بالکل درست افراد سے رابطہ کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہبازشریف کا ٹوئٹ سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں جن لوگوں سے ہماری بات ہو رہی ہے وہ ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور اب دیکھتے ہیں کہ اس ڈیل کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارکو روبیو اور جے ڈی وینس بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں اب سب کچھ تباہ ہو چکا ہے اور وہاں اب کوئی ایسی چیز نہیں بچی جو تباہ نہ ہوئی ہو۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ ہم ایران میں کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں اور ہمیں وہاں کوئی روکنے والا نہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا ایران پر بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا، صدر ٹرمپ نے کہا کہ تہران اب ہم سے سمجھداری کے ساتھ بات کر رہا ہے اور ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی صلاحیت نہیں ہونی چاہیے۔




