آئل ٹینکروں پر حملے، ایشیائی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں7 فیصد بڑھ گئیں

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عراقی پانیوں میں دو آئل ٹینکروں پر حملوں کی خبروں کے بعد ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔

رپورٹس کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب دو بین الاقوامی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی

برطانوی خام تیل کی قیمت میں 7.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد برطانوی خام تیل کی قیمت 99.03 ڈالر فی ہوگئی۔

ابتدائی ایشیائی تجارت میں امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 7.5 فیصد اضافے کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں تیل قیمتوں میں کمی،کیا پاکستان میں بھی پٹرول سستا ہوگا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیج اور آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنےکا اعلان کیا تاہم اس اعلان کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایران نے گزشتہ روز امریکا کو خبردار کیا ہے کہ تیل کی فی بیرل قیمت 200ڈالر تک جائے گی،ہم آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو گزرنے نہیں  دینگے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کی بندش : تیل کی عالمی سپلائی متاثر،بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتے،احسن اقبال

دوسری طرف صدر نے دعویٰ کیا ہے کہا کہ آپریشن ایپک فیوری تیل کی قیمتوں کو بہت حد تک کم کرے گا اور دنیا کے لیے خطرے کو کم کرے گا۔

خام تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھائو پر دنیا بھر کی معشتیں دائو پر لگی ہوئی جبکہ امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ رکنے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

Scroll to Top