مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد کشمیر میں ایک تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جس نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے ۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک شخص جو مبینہ طور پر سماجی تنظیم کے نام پر چندہ جمع کر رہا تھا، اسے ساجد اعوان علوی اور اس کے ساتھیوں نے پکڑ کر سرعام تشدد کا نشانہ بنایا ۔ اس تشدد کی ویڈیو بھی بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ شخص کو عوامی مقام پر مارا پیٹا جا رہا ہے، جبکہ اس کا ریکارڈنگ بھی جاری ہے ۔ واقعہ منظرعام پر آنے کے بعد شہریوں اور سول سوسائٹی نے اس عمل کی سخت مذمت کی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ اگر کوئی جرم میں ملوث ہے تو اسے قانونی اداروں کے حوالے کیا جانا چاہیے، نہ کہ نجی طور پر سزا دی جائے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایس ایچ او کا خاتون اور بچے پرتشدد، علاقے کی فضاء کشیدہ، نیلم پل بند
سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص پر ازخود تشدد کرنا نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی حقوق کے بھی برعکس ہے ۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ایسے واقعات کو روکا نہ گیا تو معاشرے میں لاقانونیت فروغ پا سکتی ہے۔بعض حلقوں نے یہ صورتحال تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آزاد کشمیر کو غیر محفوظ حالات کی طرف دھکیل سکتا ہے ۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق، وائرل ویڈیو کے ساتھ تشدد کرنے والوں کے مبینہ ایڈریس بھی سامنے آ چکے ہیں تاہم اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی واضح کارروائی نہیں کی گئی۔ شہریوں اور سول سوسائٹی نے انسپکٹر جنرل پولیس آزاد کشمیر سے فوری نوٹس لینے اور ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم رہے ۔
سول سوسائٹی نے زور دیا ہے کہ نفرت جرم سے ہونی چاہیے، ملزم سے نہیں ۔ ایسے اقدامات معاشرتی بے چینی میں اضافہ کرتے ہیں اورعدالتی نظام کی اہمیت کو کمزور کرتے ہیں ۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ یہ معاشرے کیلئے ایک عبرت بن سکے ۔




