اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو علاج کے لیے نجی اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل ضروری ریکارڈ اور قانونی وضاحتیں بھی طلب کر لی ہیں تاکہ طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق درخواست پر حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
عدالتی کارروائی اور تحریری حکمنامہ:
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد تحریری حکمنامہ جاری کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست پر اٹھائے گئے تین اعتراضات دور کر دیے گئے ہیں جبکہ بقیہ دو اعتراضات پر قانونی وضاحت کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر اسلام آباد سے بھی جواب طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا پمز میں طبی معائنہ ، ٹیسٹ نارمل قرار، واپس اڈیالہ منتقل
جیل انتظامیہ سے رپورٹ کی طلب:
عدالت عالیہ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک جامع رپورٹ پیش کریں جس میں یہ تفصیل فراہم کی جائے کہ بانی تحریک انصاف توشہ خانہ فوجداری مقدمے میں اب تک کتنی مدت قید کاٹ چکے ہیں۔ عدالت نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ تمام معلومات درست اور مکمل ہونی چاہئیں تاکہ قیدی کی قانونی حیثیت اور طبی ضروریات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
وکلاء کے دلائل اور طبی خدشات:
سماعت کے دوران عمران خان کے وکلاء نے موقف اپنایا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے شدید خدشات موجود ہیں، لہٰذا انہیں بہتر علاج کے لیے فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا جائے۔ وکلاء نے مزید کہا کہ آئین اور قانون کے تحت قیدی کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
آئندہ کی حکمت عملی:
عدالت نے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی ہے کہ متفرق درخواست کو نمبر لگا کر مرکزی اپیل کے ساتھ منسلک کیا جائے اور تمام متعلقہ دستاویزات اور پیپر بک 10 مارچ سے قبل مکمل کی جائے۔ عدالت کی جانب سے نوٹسز کے اجرا اور ریکارڈ کی طلبی کو قانونی حلقوں میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس کی روشنی میں آئندہ سماعت پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔




