مظفرآباد: شیخ خلیفہ بن زید ہسپتال کے باہر محکمہ صحت کے ملازمین کا دھرنا کئی روز سے جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں اور جب تک مطالبات منظور نہیں کیے جاتے احتجاج جاری رہے گا۔
مظاہرین میں شامل میر محمد عارف کا کہنا تھا کہ ملازمین کی جانب سے چیف سیکرٹری کو باقاعدہ چارٹر آف ڈیمانڈ دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملازمین کے مسائل 30 اور 31 جنوری تک حل کیے جائیں، تاہم مطالبات منظور نہ ہونے پر 6 فروری سے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا۔
میر محمد عارف کا کہنا تھا کہ ملازمین روزانہ دو گھنٹے احتجاج کرتے ہیں اور یہ احتجاج صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے تک جاری رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین عوام الناس اور حکومت کو مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہتے، اسی لیے احتجاج کو محدود وقت تک رکھا گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم مریضوں کا علاج بھی کرتے ہیں اور عوام کو مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ اسی لیے تمام ملازمین ایک ساتھ احتجاج میں شامل نہیں ہوتے جبکہ ان دو گھنٹوں کے علاوہ باقی وقت اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر:ہیلتھ ملازمین کا احتجاج 17ویں روز میں داخل، سڑکوں پر نکلنے کا اعلان
مظاہرین کے مطابق ملازمین کے اہم مطالبات میں ہیلتھ الاؤنس کو رننگ بیسک پے پر دینے، تمام ملازمین کے لیے علیحدہ علیحدہ سروس اسٹرکچر تشکیل دینے اور ڈرگ سیل الاؤنس کو سابقہ رولز کے مطابق جاری کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔
اس کے علاوہ ہیلتھ ورکرز کی پنشن کا نوٹیفکیشن جاری کرنے، ہیلتھ کیئر الاؤنس فوری طور پر دینے، ہیلتھ فاؤنڈیشن کے قیام اور جی پی ایف پر منافع دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
ملازمین کا مزید کہنا تھا کہ نرسز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز، سپورٹ اسٹاف، ہیلتھ ورکرز اور ایم سی ایچ ٹیکنیشنز کے لیے باقاعدہ سروس اسٹرکچر تشکیل دیا جائے تاکہ محکمہ صحت کے ملازمین کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ دو گھنٹے کی روزانہ ہڑتال مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی اور اگر حکومت نے اس معاملے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو احتجاج کا دائرہ مزید بڑھایا جائے گا۔




