ایران کے ایک سرکاری خبر رساں ادارے نے تصدیق کر دی ہے کہ ہفتہ 28 فروری کو تہران میں کیے جانے والے اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں میں سے ایران دو مرتبہ صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے قدامت پسند سیاستدان محمود احمدی نژاد بھی شہید ہو گئے ہیں۔
سرکاری میڈیا نے بیاتا ہے کہ احمدی نژاد تہران شہر کے ایک مشرقی علاقے میں اپنے گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں اپنے ایک محافظ سمیت شہید ہوئے ہیں۔ ان کی عمر 69 برس تھی۔
یہ بھی پڑھیں:یو اے ای نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا، سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان
احمدی نژاد 2005ء سے لے کر 2013ء تک کے آٹھ سالہ عرصے میں 2مرتبہ ایران میں صدر کے عہدے پر فائز رہے تھے۔
وہ اس عرصے کے شروع میں ایرانی پارلیمان میں قدامت پسندوں اور انتہائی سخت گیر سیاستدانوں دونوں ہی کے پسندیدہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر آمادہ ہو گیا ، عمان کا دعویٰ
ان کے عہدہ صدارت کی دوسری مدت کے دوران ان کی پالیسیوں سے متعلق ملک کی اعلیٰ ترین شیعہ مذہبی قیادت کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔
انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں جو پالیسی اپنائی تھی وہ تہران کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں اور یوں ملک کے لیے اقتصادی بحران کی وجہ بھی بنی تھی۔
بعد کے برسوں میں احمدی نژاد کے حامی اور ووٹر بھی ان سے دور ہو گئے تھے، یہاں تک کہ ایرانی سخت گیر سیاسی حلقے بھی انہیں ایک متنازعہ شخصیت سمجھنے لگے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پاکستان اور عوام ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں،وزیر اعظم شہباز شریف
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، وزیر دفاع، آرمی چیف سمیت متعدد شخصیات شہید ہوچکی ہیں۔




