پاکستان نے اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ حکام کے مطابق یہ قدم پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں اٹھایا گیا، جو مکمل طور پر مستند اور قابلِ اعتماد انٹیلیجنس معلومات پر مبنی تھا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا اصل ہدف وہ عناصر تھے جو پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرنے کے بعد سرحد پار افغانستان میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس آپریشن کے دوران کسی بھی افغان شہری یا سیکیورٹی اہلکار کو نشانہ نہیں بنایا گیا، اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کیا جانے والا پروپیگنڈا محض جھوٹ اور گمراہ کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف بڑی کارروائی: مارے جانے والے دہشت گرد کمانڈرز کے نام منظرِ عام پر آگئے
ذرائع کے مطابق ننگرہار، خوست، پکتیکا اور پکتیا کے علاقوں میں فتنہ الخوارج کے مجموعی طور پر 7 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی انتہائی درستگی اور محدود دائرہ کار میں کی گئی تاکہ صرف دہشت گردوں کے ڈھانچے کو ہی نقصان پہنچے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں فتنہ الخوارج کی آپریشنل قیادت کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور کئی اہم کمانڈرز سمیت متعدد دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دفاعِ وطن کے اصول اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق کیا گیا ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ پاکستان نے کئی بار مصدقہ شواہد کے ساتھ افغان طالبان انتظامیہ کو باور کرایا تھا کہ فتنہ الخوارج ان کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں۔ تاہم، وہاں سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر پاکستان نے اپنی سلامتی کے پیشِ نظر خود یہ قدم اٹھایا۔ پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے تاکہ خطے میں امن قائم ہو سکے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں اور عبادت گاہوں پر حملے کرنے والے ان عناصر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ منطقی انجام تک جاری رکھے گا۔




