مشرقِ وسطیٰ میں نئی فوجی نقل و حرکت: سیٹلائٹ تصاویر نے امریکی بیڑے کی پوزیشن واضح کر دی

واشنگٹن/لندن: بی بی سی ویریفائی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کی بحیرۂ عرب میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ یورپی سیٹلائٹ ’سینٹینل-2‘ کے ذریعے حاصل کردہ ان تصاویر کے مطابق، یہ بحری بیڑا فی الوقت عمان کے ساحل سے تقریباً 240 کلومیٹر اور ایران سے 700 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔

عسکری اثاثوں کی تفصیلات:

رپورٹس کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اور ایف-35 فائٹر جیٹس سمیت 90 طیاروں سے لیس ہے۔ یہ بیڑا جنوری کے آخر میں خطے میں پہنچا تھا، تاہم کھلے سمندر میں پوزیشن تبدیل کرنے کی وجہ سے اب تک واضح طور پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ مزید برآں، دنیا کا سب سے بڑا جنگی جہاز ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ بھی آئندہ چند ہفتوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکیں گے، ایرانی وزیر خارجہ ،مذاکرات کیلئے جنیوا پہنچ گئے

سفارتی دباؤ اور مذاکرات:

یہ عسکری پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن کی جانب سے ایران پر اس کے نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، منگل (آج) سوئٹزر لینڈ میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے، جہاں ایران پابندیوں کے خاتمے جبکہ امریکہ دیگر علاقائی معاملات پر بات چیت کا خواہاں ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی:

تجزیہ کاروں کے مطابق، ابراہم لنکن کی موجودگی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی قوت میں حالیہ اضافے کی کڑی ہے۔ بی بی سی ویریفائی کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی ڈسٹرائرز اور لڑاکا طیاروں کی تعیناتی میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مزید پرھیں: ایران کا امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے سمجھوتوں پر آمادگی کا اظہار

Scroll to Top