تہران: ایران نے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں اٹھانے پر بات کرنے کے لیے تیار ہو تو وہ امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی کے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سامنے آئی ہے۔
انٹرویو کے دوران مجید تخت روانچی نے واضح کیا کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ واقعی معاہدہ چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا مخلص ہے تو مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پروگرام سے متعلق دیگر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ پابندیوں پر بات چیت کے لیے آمادہ ہوں۔ تاہم، نائب ایرانی وزیرِ خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس سے مراد ایران پر سے تمام پابندیاں اٹھانا ہے یا صرف کچھ پابندیاں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی ایران کے خلاف طویل فوجی آپریشن کی تیاری، جوہری تنصیبات سمیت اہم اہداف نشانے پر
دوسری جانب، ہفتے کے روز امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، مگر ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا “انتہائی مشکل” ہے۔ جب مجید تخت روانچی سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی طرح 400 کلوگرام سے زائد انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ملک سے باہر بھیجنے پر آمادہ ہوگا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کے دوران کیا پیش رفت ہوگی۔




