وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مستحق خاندانوں کے لیے رمضان ریلیف پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں مسلمان دکھی انسانیت کے ساتھ اپنے وسائل بانٹتے ہیں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ماضی کے فرسودہ نظام کو مکمل طور پر ختم کر کے جدید اور شفاف طریقہ کار اپنا لیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں رمضان ریلیف یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے فراہم کیا جاتا تھا، جہاں اشیائے خوردونوش کے معیار اور فراہمی کے نظام پر عوام کو شدید مشکلات اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، تاہم اب اس پرانے نظام کو ڈیجیٹل طریقہ کار سے بدل دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا جموں و کشمیر مہاجرین کے وظیفے میں دوگنا اضافے کا اعلان
گزشتہ تجربات اور بجٹ میں اضافہ:
وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ سال ڈیجیٹل نظام کے نفاذ میں مختلف چیلنجز درپیش تھے، جنہیں حکومت نے کامیابی سے حل کیا اور شکایات کے ازالے کے لیے خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا۔ گزشتہ برس اس پروگرام کے تحت 20 ارب روپے کی رقم انتہائی شفاف انداز میں مستحقین تک پہنچائی گئی تھی۔ رواں سال اس پروگرام کے دائرہ کار کو مزید وسعت دیتے ہوئے مجموعی طور پر 38 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ملک کے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مستحق خاندانوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔
مستفید ہونے والے خاندان اور ادائیگی کا طریقہ:
اس ریلیف پیکج کے ذریعے ملک بھر کے ایک کروڑ اکیس لاکھ مستحق خاندان براہِ راست مستفید ہوں گے اور ہر خاندان کو بلاامتیاز 13 ہزار روپے کی امدادی رقم فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ تمام ادائیگیاں بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جائیں گی تاکہ نہ صرف شفافیت برقرار رہے بلکہ عوام کو سہولت بھی میسر آئے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خود باقاعدگی سے اس پروگرام کی نگرانی کرتے رہیں گے تاکہ امدادی رقم بروقت اور صرف اصل حقداروں تک پہنچنا یقینی بنایا جا سکے۔




