یوسف شاہ

ماضی میں بچے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے : یوسف شاہ

وادی لیپہ(کشمیر ڈیجیٹل ) وادی لیپہ کے بزرگ یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں تعلیمی سہولیات انتہائی محدود تھیں۔ اسکولوں کی عمارتیں مکمل نہیں تھیں اور بچے کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے ۔ شدید سردیوں میں طلبہ لکڑیاں ہاتھوں میں اُٹھا کر سکول جاتے اور پہنچ کر آگ جلا کر کلاس روم میں گرمائش پیدا کرتے تھے ۔

یوسف شاہ نے اپنے اساتذہ کو بھی محبت سے یاد کیا اور بتایا کہ انہوں نے کن عظیم اساتذہ سے تعلیم حاصل کی تھی، جنہوں نے کم وسائل کے باوجود طلبہ کو علم کی روشنی سے منور کیا ۔ اُن کے مطابق اسکول میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باوجود علم کا شوق ہر مشکل پر غالب تھا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بنگلادیش ،بی این پی نے دوتہائی اکثریت حاصل کرلی، این سی پی بری طرح ناکام 

انہوں نے بتایا کہ ان دنوں نہ صرف کلاس رومز ناقص تھے بلکہ کتابیں اور دیگر تعلیمی وسائل بھی محدود تعداد میں دستیاب تھے ۔ طلبہ اور اساتذہ کو اپنی محنت اور لگن سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا پڑتا تھا ۔

یہ یادیں ہمیں وادی لیپہ کے لوگوں کی محنت اور علم کے شوق کی عکاسی کرتی ہیں ۔ محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود علم حاصل کرنے کا جذبہ ان کی سب سے بڑی طاقت تھا ۔

یوسف شاہ کی کہانی آج کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے سبق آموز ہے کہ مشکلات علم کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ عزم اور حوصلے کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم فیصل راٹھور کا پولیس افسران کی مراعات پنجاب کے برابر کرنے کا اعلان

کشمیر ڈیجیٹل کی یہ خصوصی رپورٹ وادی لیپہ کی تعلیم کے ماضی اور علم کے لیے لوگوں کے جذبے کو اجاگر کرتی ہے ، اور یہ بتاتی ہے کہ علم کی روشنی ہمیشہ ہر مشکل سے جیت کر نکلتی ہے ۔

Scroll to Top