واشنگٹن: امریکا کی ایک عدالت نے ٹیکساس کے امیگریشن حراستی مرکز میں زیرِ حراست ایکواڈور کے پانچ سالہ بچے کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
امریکی محکمہ داخلہ سلامتی کے حکام کےمطابق گزشتہ ماہ مینیسوٹا سے حراست میں لیے گئے بچے لیام کونیخو راموسکو اس کے آبائی ملک واپس بھیجنے کے لیے قانونی کارروائی آگے بڑھانا چاہتے ہیں ۔
محکمہ داخلہ سلامتی نے واضح کیا ہے کہ بچے کی بے دخلی نہ تو فوری بنیادوں پر کی جا رہی ہے اور نہ ہی یہ کوئی ہنگامی اقدام ہے ۔ تاہم اس سے قبل بچے کے وکیل نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ بچے کو فوری طور پر ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بچے کے وکیل ڈینیئل مولیور کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی غیر معمولی نوعیت کی ہے اور اس میں انتقامی پہلو شامل ہونے کا خدشہ ہے ۔
دوسری جانب محکمہ داخلی سلامتی کی ترجمان ٹریشیا میک لافلن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ امیگریشن قوانین کے تحت معمول کی کارروائی ہے اور اس میں کسی قسم کا انتقام شامل نہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یواے ای :امیگریشن قوانین میں اہم تبدیلیاں،نئی ویزا کیٹیگریز متعارف
امیگریشن حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی کسی بچے کے خلاف نہیں بلکہ اس کے والد کے خلاف کی گئی ہے، جنہیں حکام نے غیر قانونی تارکِ وطن قرار دیا ہے ۔ اس وضاحت کے باوجود عوامی سطح پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے اور غم و غصہ کم نہ ہو سکا ۔
دوسری جانب اس معاملے پر بچے یا امریکی محکمہ انصاف کے وکلا ءکی جانب سے فوری طور پر کسی قسم کا تبصرہ سامنے نہیں آیا ۔
واضح رہے کہ 5سالہ لیام اور اس کے والد ایڈرین کونیخو آریاس قانونی طور پر پناہ کے متلاشی کے طور پر امریکا میں داخل ہوئے تھے ۔
دونوں کو ٹیکساس کے شہر ڈیلی میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا ۔ بعد ازاں 31 جنوری کو ایک جج نے ان کی رہائی کا حکم دیا، جس کے بعد باپ بیٹا مینیسوٹا واپس چلے گئے تھے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکہ باز نہ آیا تو خطے میں موجود تمام فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بچے کے والد امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں ۔




