اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل ) عوامی ایکشن کمیٹی کے سینئر ممبران شوکت نواز میر اور عمرنذیر کشمیری نے سینئر صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا ۔ مہاجرین کی نشستوں پر ڈیڈ لاک کی وجہ حکومت آزادکشمیر اور حکومت پاکستان ہیں ۔
عمرنذیر کشمیری کا کہنا تھاکہ حکومت نے چلاکی کرتے ہوئے مہاجرین نشستوں پر کامیاب ممبران کو حکومت میں شامل تو نہیں کیا مگر انہیں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین وزیرکے برابر عہدہ اور مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔۔ڈپٹی سپیکر بھی مہاجرین کی سیٹوں سے ہیں ۔ اس حوالے سے ہمارے تحفظات تھے جس پر ڈیڈ لاک ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ایکشن کمیٹی تحریک کی حمایت کرتے، مہاجرنشستوں بارے اصلاحات لائی جائیں، ڈاکٹر مشتاق
عمرنذیر کشمیری کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوچکا ہے ، ہم نے حکومت کو 25 فروری تک ڈیڈ لائن دے رکھی ہے ۔اگر 25 فروری تک قائمہ کمیٹی کی سیٹوں پر جو مہاجرین ممبران کو لگایا گیا ہے اسے واپس لیا جائے اگر حکومت وڈرا نہیں کرتی تو ہم 25 فروری کو کوٹلی میں ہونے والے اجلاس میں ہم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے
ایک سوال کےجواب میں کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں تو مہاجرین جموں وکشمیر کی نشستوں کے حوالے سے کوئی مطالبہ شامل نہیں تھا تو یہ اچانک مطالبہ کہاں سے آگیا ؟ شوکت نواز میر ممبر ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ اچانک نہیں آیا ۔
اس معاملے پر ہماری ورکنگ ہورہی تھی ۔ اس پر پوری تحقیق کی گئی ، لیگل ٹیم نے اس معاملے پر ورکنگ کی ۔ اس معاملے کے اندر جو بیوروکریٹک کرپشن ہے وہ سامنے آئی پھر سٹیٹ سبجیکٹ کو ڈسکس کیا گیا اور ایف آئی اے کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد لازم ہوگیا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بہت ضروری ہے ۔
عمر نذیر کشمیری کا کہنا تھا کہ جب آزادکشمیر سے پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی تو یہی سپیشل نشستوں پر براجمان کشمیری مہاجرین کی نشستوں پر منتخب افراد نے ایک دم رخ تبدیل کرکے دوسری جماعت انوارالحق کے پلڑے میں جھک گئے ۔ پھر فیصل ممتاز راٹھور آئے تو ان کی حکومت میں بھی وہی مخصوص لوگ چمٹے ہوئے ہیں جو انوارالحق کیساتھ تھے ۔
عمرنذیر کشمیری کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کے نام پر کرپشن کی بھرمار ہے ۔ترقیاتی فنڈز ہڑپ کرلئے جاتے ہیں ۔ ان فنڈز کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ کہاں جاتے ہیں۔
دوسری جانب شوکت نواز میر کا کہنا تھا کہ ہم نے چیک کرلیا ہے ۔ لوکل گورنمنٹ کا ایک ایس ڈی او یا ایکسئین یہاں مظفرآباد میں بیٹھتا ہے اور ان ممبران اسمبلی سے ساز باز کرکے اپنا کمیشن لے کر انہیں فنڈز جاری کردیتا ہے ایک اور بڑا فراڈ جس کا عوام کو علم ہی نہیں ہے ان ممبران اسمبلی نے سکیموں کے نام پر کئی مہاجرین کے نام پر کالینیں اونے پونےزمینیں خریدیں ۔ مہاجرین کو راستے میں چھوڑ کر سکیمیں مہنگے داموں فروخت کرکے کمیشن لیا اور سائیڈ پر ہوگئے ۔
یہ بھی پڑھیں: معاہدے پر عملدرآمد تیز کیا جائے، امیر مقام ،ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کو پھر ساتھ بیٹھے کی دعوت
ان کا کہنا تھا کہ رہی بات فنڈز کی تو یہ فنڈز ابھی تک زمین پر لگے نظر نہیں آئے ۔ دوسری جانب بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں وہ بھی جعلی سٹیٹ سبجیکٹ بنوا کر یہاں ملازمتیں اور وزارتیں انجوائے کررہے ہیں ۔کئی سرکاری ملازمین ریٹائر بھی ہوچکے ہیں۔یہ میں نہیں کہہ رہا یہی ممبران اسمبلی کہہ رہے ہیں ۔
حکومت پاکستان کے بی ہاف پر ہم نے حکومت آزادکشمیر کے ساتھ ایک کنٹریکٹ سائن کیا ہے ۔حکومت کا موقف ہے کہ اگر مہاجرین کی 12 نشستیں ختم ہونگی تو مسئلہ کشمیر پر فرق پڑے گا۔ ہم نے حکومت کو کہا کہ آپ کمیٹی تشکیل دیں ، ہم ثابت کرینگے کہ ان کا مسئلہ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر ہم ثابت نہ کرسکے تو آپ جو کہیں گے وہ ہم مانیں گے ۔




