ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کا وائرل نوٹیفکیشن بے بنیاد قرار

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے سے متعلق جعلی نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر ایک بار پھروائرل ہو گیا ۔

وائرل ہونے والے نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے تمام وفاقی سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے ہوگا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:راولاکوٹ: بی آئی ایس پی عملے کا نارواسلوک، مستحق خواتین خوار ہونے لگیں

تاہم سرکاری ذرائع نے اس نوٹیفکیشن کو جعلی اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے نوٹیفکیشن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نام کا غلط استعمال کیا گیا ہے

جبکہ اس پر خیبر پختونخوا کا لوگو، وزارتِ پاکستان اسلام آباد کا جعلی ٹائٹل اور شکیل قدیر خان کے نام سے بطور چیف سیکرٹری جعلی دستخط بھی درج ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:صدر آزادکشمیر کون؟تنویر الیاس،تسنیم اسلم، چوہدری یٰسین،سردار عتیق خان کے درمیان جوڑ پڑ گیا

جعلی نوٹیفکیشن میں فنانس ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مبینہ حوالہ نمبر بھی شامل کیے گئے ہیں تاہم حقیقت میں اس نوعیت کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

فنانس ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے بھی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے سے متعلق کسی قسم کی باقاعدہ منظوری نہیں دی گئی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھمبر:یونیورسٹی کے طلباء وطالبات انتظامیہ کیخلاف سراپا احتجاج

حکام کے مطابق اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے جعلی نوٹیفکیشنز اور افواہیں سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہی ہیں جن کا مقصد سرکاری ملازمین اور عوام میں کنفیوژن اور بے یقینی پیدا کرنا ہے۔

متعلقہ اداروں نے سرکاری ملازمین اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قسم کی اطلاعات پر یقین مت کریں۔

صرف مستند سرکاری ذرائع اور سرکاری گزٹ میں شائع شدہ نوٹیفکیشنز پر ہی انحصارکیا جائے۔

Scroll to Top