مظفر آباد ( کشمیر ڈیجیٹل )بلدیاتی نمائندگان کی جانب سے ایکٹ 1990 کی بحالی کے خلاف دارالحکومت میں مرکزی شاہراہ بند کر کے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج ،دھرنا دیا گیا،اس موقع پر چیئرمین یونین کونسل مظفرآباد کی زیر صدارت یونین کونسل مظفرآباد کا اجلاس بھی ائیرپورٹ روڈ پر منعقد کیا گیا ۔
اس موقع پر بلدیاتی ایکٹ 1990 کی بحالی کیلئے قرارداد پیشں کی گئی جس کی بلدیاتی نمائندگان نے ہاتھ اٹھا کر حمایت کی اور بلدیاتی ایکٹ 1990 کی بحالی پر زور دیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلدیاتی نمائندگان نے حکومت کو وارننگ دی کہ اگر 25 فروری سے پہلے ہمارے مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو آزاد کشمیر بھر سے بلدیاتی نمائندگان عوام کے ہمراہ 25 فروری کوآزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا گھیرائو ، لانگ مارچ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں ۔۔اسمبلی اجلاس نہ بلانے پر بلدیاتی نمائندگان کا احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان
دریں اثناءمظفر آباد ضلع کونسل کے ممبر میر امتیاز احمد نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں تین عشروں کے بعد بلدیاتی الیکشن ہوئے جس پر ہم سابق وزیر اعظم تنویر الیاس اور اعلیٰ عدلیہ کے شکر گزار ہیں ،بلدیاتی انتخابات تو ہوگئے لیکن حکومت ہمیں اختیار ات نہیں د ے رہی ہم مشاورت کررہے ہیں اگر حکومت نے اختیارات بحال نہ کئے تو لانگ مارچ ، قانون ساز اسمبلی کا گھیرائو کرینگے اس کے باوجود بھی کچھ نہیں کیا گیا تو ایل او سی کی طرف مارچ بھی کرسکتے ہیں لیکن یہ آخری آپشن ہوگا ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے چارٹر آف ڈیمانڈ حکومتی کمیٹی کے سپرد کیا ہوا ہے اور اب اطلاعات ہیں کہ حکومت نے اس مسودے میں بھی ترمیم کردی ہے حالانکہ حکومتی کمیٹی نے ہمارے مسودے پر اتفاق کیا ہوا ہے ۔
ہمارا چارٹر آف ڈیمانڈ وہی مسودہ ہے اسی میں سب کچھ لکھا ہوا ہے ۔ حکومتی کمیٹی میں وزراء فیصل راٹھور ، میا ں وحید اور قاسم مجید اور دیگر موجود ہیں ان کے ساتھ مشاورت کے بعد ہم نے وہ مسودہ حکومتی کمیٹی کے سپرد کیا تھا۔
یہ خبر بھی پڑھیں ۔بلدیاتی نمائندگان کو اختیارات ملنے میں بڑی پیشرفت، لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم پراتفاق
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مسودہ اسمبلی سے پاس کرو ا دے لیکن فی الحال حکومت کاایسا کوئی ارادہ نہیں لگتا ،ان کاکہنا تھا کہ حکومتی کمیٹی نے از خود اس مسودے میں ایک ترمیم کردی ہے کہ چیئر مین ضلع کونسلز کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک سادہ اکثریت کے ساتھ آسکتی ہے حکومت نے یہ صرف اس لئے کیا ہے کہ تاکہ ہم آپس میں ہی الجھے رہیں یہ سب کچھ بدنیتی پر مبنی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے ہم سے امیدیں لگائی ہوئی ہیں کہ ہم ان کے مسائل حل کرینگے لیکن حکومت اختیارات نہ ہی فنڈز دے رہی ہے ایسی صورت میں ہمارے پاس لانگ مارچ اور اسمبلی کا گھیرائو کرنے کے سوا کو ئی آپشن نہیں ،ہم جمہوری لوگ ہیں نہیں چاہتے کہ ایسا ماحول بنے جس سے دشمن کو انگلی اٹھانے کا موقع ملے تاہم حکومت کو بھی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔




