مظفرآباد(تحقیقاتی رپورٹ /کشمیر ڈیجیٹل)چیف الیکشن کمشنرکی عدم تعیناتی ،پیپلزپارٹی حکومت آئینی ادارہ بغیر سربراہ کے چلانے کیلئے بضد جبکہ اپوزیشن فوری تعیناتی کیلئے سرگرم عمل ہے ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مری روڈ کی کشادگی منصوبے میں اہم تبدیلیاں،چوڑائی 20 فٹ کرنے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق سیاسی جماعتوں کی کھینچا تانی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اندرونی اختلافات کے باعث آئینی منصب سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی۔
عام انتخابات دو ہزار چھبیس اپنے مقررہ وقت پر نہیں ہونگے ۔تفصیلات کیمطابق کشمیر ڈیجیٹیل نیوز نیٹ ورک نیوز نیٹ ورک کی تحقیقاتی رپورٹ کیمطابق آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں عام انتخابات دو ہزار چھبیس کی تیاریاں جہاں عروج پر ہے وہاں چیف الیکشن کمشنر کی تاحال عدم تعیناتی نے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سردار عتیق خان کا آزادکشمیر کے 33 حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان
زرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی نہ ہونے کے باعث عام انتخابات تاخیر کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔۔
وزیر کالجز ملک ظفر کے مطابق کہ انتخابات وقت پر نہیں ہو سکتے کے بعد ایک دھڑا جلد عدالت العالیہ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کی تیاری کررہا ہے
مزید یہ بھی پڑھیں:ڈڈیال میں سیاسی ہلچل، راجہ پرویز اشرف کی آمد نے ماحول گرم کر دیا
جبکہ دوسری جانب فیورٹ ازم دوڑ کے باعث حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان معاملہ عدم رضا مندی کا شکار ہے۔۔
کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوں ایک سیاسی جماعت کے مطابق حکومت نے اپنی ساری توانائیاں ایکشن کمیٹی کی طرف مرکوز کر رکھی ہیں ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وادی لیپا میں مرغی کی قیمتوں میں اضافہ، عوام مشکلات کا شکار
الیکشن میں تاخیر بھی ایکشن کمیٹی کے سر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ایکشن کمیٹی بھی کسی صورت انتخابات سے قبل اپنے مطالبات کا حل چاہتی ہے۔۔
مسلم لیگ ن بروقت انتخابات کرانا چاہتی ہے لیکن موجودہ حکومت وقت انتخابات کرنے سے گریزاں ہے زرائع کے مطابق دسمبر سے قبل عام انتخاب ممکن دکھائی نہیں دیتے۔




