مشرقی چین کی ایک فیکٹری میں ہونے والی معمولی سی سلائی کی غلطی نے ایک سادہ کھلونے کو غیر معمولی شہرت دلوا دی۔ یہ کھلونا گھوڑا، جس کے چہرے کی بناوٹ عام گھوڑوں سے مختلف تھی، ابتدا میں ایک پیداواری نقص سمجھا گیا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہی خامی اس کی پہچان بن گئی اور ننھے منے کھلونا گھوڑے نے دنیا بھر میں لوگوں کے دل جیت لیے۔
ان کھلونوں کے منہ کی عجیب سی بناوٹ انہیں روتا ہوا ظاہر کرتی ہے۔ جو چیز پہلے خرابی کے طور پر دیکھی جا رہی تھی، وہی بعد میں ان کی سب سے نمایاں خصوصیت بن گئی۔ ایم ایس این کے مطابق یہ دلچسپ واقعہ جنوری میں اس وقت سامنے آیا جب ایک انٹرنیٹ صارف نے سوشل میڈیا پر ایک ایسے کھلونا گھوڑے کی تصویر شیئر کی جس کا چہرہ روتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
تصویر سامنے آنے کے بعد دکاندار نے ہنستے ہوئے یہ پیشکش کی کہ اگر خریدار چاہے تو وہ کھلونا تبدیل کر سکتا ہے۔ اس وقت کسی نے یہ اندازہ نہیں لگایا تھا کہ یہی ’خرابی‘ بہت جلد مقبولیت کی علامت بن جائے گی اور لوگ اسی خاص شکل والے کھلونے کو تلاش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ امریکی میڈیا نے نیا دعویٰ کردیا
یہ کھلونا چین کے شہر یی وو میں تیار کیا گیا تھا، جو دنیا کی سب سے بڑی چھوٹی اشیا کی تھوک منڈی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ تقریباً 20 سینٹی میٹر اونچا یہ سرخ رنگ کا گھوڑا خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور صرف 25 یوان میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ چینی قمری سال میں گھوڑے کی اہمیت کے باعث یہ کھلونا نئے سال کی ایک خوبصورت علامت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
تاہم سلائی کی ایک معمولی غلطی کے نتیجے میں اس کھلونے کے نتھنے نیچے کی جانب جھک گئے اور منہ کچھ پُھولا ہوا سا دکھائی دینے لگا۔ اسی بناوٹ نے گھوڑے کے چہرے کو رونے جیسی کیفیت دے دی۔ چینی اخبار پیپلز ڈیلی کے مطابق فیکٹری میں اس شکل کو ابتدا میں ایک نقص قرار دیا گیا تھا۔
لیکن انٹرنیٹ صارفین نے اس نامکمل خوبصورتی کو فوراً قبول کر لیا۔ لوگوں نے محبت سے اس کھلونے کو ’روتا ہوا گھوڑا‘ کہنا شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ روتا ہوا گھوڑا سوشل میڈیا پر مقبول ہو گیا اور اس کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یوں ایک چھوٹی سی پیداواری غلطی نے نہ صرف ایک نیا رجحان جنم دیا بلکہ یہ حقیقت بھی ثابت کر دی کہ بعض اوقات خامیاں ہی اصل خوبصورتی بن جاتی ہیں اور معمولی چیزیں غیر معمولی شہرت حاصل کر لیتی ہیں۔




