کراچی کے گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی، 5 افراد جاں بحق، 20 زخمی

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق جبکہ 20 افراد زخمی ہوگئے۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہ پایا جاسکا، جبکہ آگ کی شدت کے باعث گل پلازہ کا ایک حصہ منہدم بھی ہوگیا۔ واقعے نے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔

تفصیلات کے مطابق ہفتے کی رات تقریباً سوا 10 بجے گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر اچانک آگ بھڑک اٹھی، جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پھیل گئی۔ آگ کے پھیلاؤ کی رفتار انتہائی تیز تھی جس کے باعث ریسکیو آپریشن کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 20 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے 4 افراد کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ایک فرد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے 20 فائر ٹینڈرز اور 4 اسنارکلز استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ پانی اور فوم کے ذریعے آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سال نو پر مری میں برفباری، سیاحوں کی غیر معمولی تعداد کا داخلہ بند

آگ کے باعث گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں جل کر راکھ ہوگئیں۔ شدید تپش کے سبب فائر فائٹرز کو عمارت کے اندر داخل ہونے میں مشکلات پیش آئیں۔ شاپنگ پلازہ میں ایک ہزار 200 سے زائد دکانیں موجود ہیں، جبکہ ریسکیو حکام کے مطابق کئی افراد کے عمارت میں پھنسے ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ عمارت میں ایک زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی، اور ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا گیس لیکج کے باعث ہوا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھیاں ٹوٹنے سے دو افراد گر کر زخمی بھی ہوئے۔

ترجمان ریسکیو کا کہنا ہے کہ آگ کی وجہ سے عمارت کے پلرز کمزور ہوچکے ہیں، اور عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث گرنے کا خدشہ موجود ہے۔ عمارت میں موجود افراد کی حتمی تعداد بتانا مشکل ہے۔

صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ عمارت سے تمام کسٹمر نکل چکے ہیں، تاہم وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کی جانب سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف گورنر سندھ موقع پر آئے، جبکہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق آگ مصنوعی پھولوں کی دکان سے لگی جو تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔

گل پلازہ سے نکلنے والے ایک شخص نے بتایا کہ وہ گراؤنڈ فلور پر موجود مسجد کا دروازہ توڑ کر باہر نکلے۔ ایک ملازم نے بتایا کہ ہر دکان میں کروڑوں روپے کا مال موجود تھا، جس سے بھاری مالی نقصان ہوا۔ ایک اور متاثرہ شخص کے مطابق آکسیجن کی کمی کے باعث سانس لینا دشوار ہوگیا تھا، متعدد افراد بے ہوش ہوئے، جبکہ کچھ افراد نے برابر والی عمارت پر چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان سپر لیگ میں پلیئرز آکشن متعارف کرانے کا فیصلہ

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو آگ بجھانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے آتشزدگی کے واقعے میں جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور واقعے کی فوری تحقیقات اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی بھی ہدایت کی۔

ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ آگ پر جلد از جلد قابو پایا جائے۔

Scroll to Top