پانچ سالہ بچے کے سینے سے نامکمل بچہ برآمد، ڈاکٹرز بھی دنگ رہ گئے

رحیم یار خان: رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں ایک حیران کن طبی معجزہ سامنے آیا ہے، جہاں پانچ سالہ بچے کے سینے سے نامکمل بچہ برآمد ہوا، جسے دیکھ کر ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے۔

یہ پاکستان میں نایاب طبی بیماری “Fetus in Fetu” کا پہلا منفرد کیس ہے۔

تفصیلات کے مطابق پانچ سالہ ریحان کو سینے میں شدید تکلیف اور سانس میں رکاوٹ کے باعث شیخ زید ہسپتال لایا گیا۔ ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے مختلف میڈیکل ٹیسٹ اور سی ٹی اسکین تجویز کیے۔

اسکین کے دوران بچے کے سینے میں ایک اور نامکمل بچے کی موجودگی کا انکشاف ہوا، جس نے ڈاکٹروں کو حیران کر دیا۔ اسکین رپورٹ کے مطابق نومولود کی موجودگی کے بعد ڈاکٹرز نے فوری آپریشن کا فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر سلطان محمود اور ان کی ٹیم نے پیچیدہ سرجری کے بعد نامکمل نومولود کو بچے کے سینے سے نکال لیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ آپریشن حساس تھا کیونکہ نو مولود ریحان کے دل اور بڑی شریان کے قریب موجود تھا۔ کامیاب سرجری کے بعد پانچ سالہ ریحان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

Fetus in Fetu بیماری کیا ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق Fetus in Fetu ایک انتہائی نایاب پیدائشی بیماری ہے، جس میں حمل کے ابتدائی مرحلے کے دوران جڑواں بچوں میں سے ایک بچے کی مکمل نشوونما نہیں ہوتی اور وہ دوسرے بچے کے جسم کے اندر رہ جاتا ہے۔ یہ بیماری ہر پانچ سے دس لاکھ پیدائشوں میں ایک کیس کے طور پر سامنے آتی ہے۔

اس بیماری میں نامکمل بچے کے جسم میں بعض اوقات ہڈیاں، ہاتھ پاؤں یا دیگر جسمانی ساخت جزوی طور پر موجود ہو سکتی ہیں، لیکن وہ مکمل طور پر زندہ نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ یہ جسمانی ساخت میزبان بچے کے اعضا پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے درد، سانس کی تکلیف یا دیگر سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کا واحد مؤثر علاج سرجری ہے، اور بروقت تشخیص و کامیاب آپریشن کی صورت میں مریض مکمل صحت یاب ہو سکتا ہے، جیسا کہ اس کیس میں دیکھا گیا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ کیس نہ صرف پاکستان بلکہ خطے میں بھی طبی تاریخ کا ایک اہم اور نایاب واقعہ ہے، جو جدید طبی سہولیات اور پاکستانی ڈاکٹروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Scroll to Top