بیجنگ کی جانب سے شکسگام وادی کے بارے میں یہ بیان سامنے آنے کے بعد کہ ’یہ علاقہ چین کا حصہ ہے‘، انڈیا میں پاکستان اور چین کے درمیان 1963 میں طے پائے جانے والے سرحدی معاہدے کا چرچا شروع ہو گیا ہے۔
رواں ہفتے سوموار کے روز، چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کشمیر کی شکسگام وادی پر نئی دہلی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ علاقہ مکمل طور پر چین کا حصہ ہے۔ اس ضمن میں انڈیا کے خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ کے نمائندے کی جانب سے شکسگام ویلی میں جاری انفراسٹرکچر منصوبوں پر انڈیا کی تنقید کے متعلق سوال کیے جانے پر چینی وزارتِ خارجہ کی نمائندہ ماؤ نِنگ نے کہا کہ ’چین کو اپنے علاقے کے اندر انفراسٹرکچر کی تعمیر کا پورا حق حاصل ہے۔‘
چین کی جانب سے اس بیان کے بعد انڈیا میں مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ جہاں حکمران جماعت کو اس بیان پر تنقید کا سامنا ہے، وہیں سیاسی حلقوں میں پاکستان اور چین کے درمیان 1963 میں طے پائے جانے والے سرحدی معاہدے کو ’غیر قانونی‘ قرار دینے کی بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر کی وادی شکسگام ہماری ہے، چین کا بھارت کو انتباہ جاری
انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر سید ناصر حسین نے کہا کہ بیجنگ کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی کمیونسٹ پارٹی کا ایک وفد نئی دہلی میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ناصر حسین نے منگل کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا کہ ’ایسے وقت میں جب چینی فوجی اور انجینئر زمینی حقائق کو تبدیل کر رہے ہیں اور بیجنگ کھلے عام انڈیا کی سرحدوں کو چیلنج کر رہا ہے، سیاسی ہم آہنگی کا اس طرح سے اظہار قوم اور دنیا کے لیے پریشان کن سگنل بھیجتا ہے۔‘
دوسری جانب انڈیا کے آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی نے منگل کے روز اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’جہاں تک شکسگام ویلی کا تعلق ہے، انڈیا پاکستان اور چین کے درمیان 1963 میں ہونے والے معاہدے کو غیر قانونی سمجھتا ہے اور اس تناظر میں ویلی میں ہونے والی کسی بھی طرح کی سرگرمی کو تسلیم نہیں کرتا۔‘
یہ بھی پڑھیں: مئی کی جنگ میں پاکستان کی فتح، بھارتی آرمی چیف نے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرلیا
یہ صورتحال پاکستان اور چین کے دیرینہ سرحدی تعلقات اور انڈیا کے سیاسی و فوجی موقف کے درمیان تناؤ کو ظاہر کرتی ہے، اور شکسگام وادی پر کنٹرول کے معاملے کو ایک بار پھر بین الاقوامی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔




