ٹرمپ کی کیوبا کو معاہدے کی وارننگ، صدر ڈیاز کینیل کا سخت ردعمل سامنے آ گیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو فوری طور پر معاہدہ کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا گیا تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کیوبا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ کیوبا نے کئی برسوں تک بڑی مقدار میں وینزویلا سے ملنے والے تیل اور مالی وسائل پر انحصار کیا۔ ان کے مطابق اس کے بدلے میں کیوبا نے وینزویلا کے دو آمروں کو سکیورٹی سروسز فراہم کیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے کیونکہ وینزویلا کو دنیا کی سب سے طاقت ور امریکی فوج کا تحفظ حاصل ہے۔

ٹرمپ نے کیوبا کو خبردار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ اب کیوبا کے لیے نہ کوئی پیسہ جائے گا اور نہ ہی تیل فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا، “کیوبا فوری معاہدہ کرلے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے”۔ صدر ٹرمپ کے اس انتباہ کو واشنگٹن کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا امریکی فوج کو گرین لینڈ پر قبضے کیلئے تیار رہنے کا حکم

امریکی صدر کے اس بیان پر کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینیل نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا ایک آزاد اور خودمختار قوم ہے اور کوئی بھی ملک اسے یہ حکم نہیں دے سکتا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ کیوبا کے صدر کے مطابق امریکا کا رویہ مجرمانہ ہے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

میگوئیل ڈیاز کینیل نے مزید کہا کہ کیوبا گزشتہ 66 برسوں سے امریکی جارحیت کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبا دھمکیاں نہیں دیتا، تاہم وطن کے دفاع کے لیے خود کو ہر وقت تیار رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیوبا اپنی خودمختاری اور آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

کیوبا کے صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ جو لوگ انسانی جانوں کو کاروباری نظر سے دیکھتے ہیں، ان کے پاس کیوبا پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو عناصر انقلاب کو کیوبا کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے اور 8 طیارے گرنے کا دعویٰ

امریکی صدر کی وارننگ اور کیوبا کی قیادت کے سخت مؤقف کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہو گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

Scroll to Top