برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹیکے جیسے مونجارو اور ویگووی، اگر چھوڑ دیے جائیں تو مریض کا وزن دوبارہ تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ رفتار ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہوتی ہے جو روایتی طریقے سے ڈائٹنگ اور ورزش کرتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان ٹیکوں کا استعمال کرنے والے مریض اوسطاً اپنے جسمانی وزن کا پانچواں حصہ کم کر لیتے ہیں، لیکن علاج ختم ہونے کے بعد ہر ماہ تقریباً 800 گرام وزن دوبارہ بڑھنے لگتا ہے۔ اس حساب سے مریض کا وزن صرف ڈیڑھ سال میں پہلے جتنا ہی ہو جاتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ڈاکٹر سوزن جیب نے خبردار کیا کہ ’انجیکشن یا ٹیکے خریدنے والے افراد کو اس بات کا علم ہونا چاہیے کہ علاج ختم ہونے کے بعد وزن تیزی سے واپس بھی آ سکتا ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ نتائج حقیقی زندگی پر نہیں بلکہ طبی تجربات پر مبنی ہیں، اس لیے اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کریں گے ، مصطفیٰ کمال
ماہرین نے 37 تحقیقی مطالعات کی بنیاد پر نو ہزار سے زائد مریضوں کا جائزہ لیا، جن میں کچھ نے وزن کم کرنے والے ٹیکے استعمال کیے اور کچھ نے روایتی گولیوں اور ڈائٹنگ پر انحصار کیا۔ ان میں سے صرف آٹھ مطالعات نے جدید جی ایل پی ون (GLP-1) ادویات جیسے ویگووی اور مونجارو کا ایک سال تک جائزہ لیا، اس لیے اعداد و شمار کچھ حد تک اندازے پر مبنی ہیں۔
دوسری جانب وہ افراد جو صرف ڈائٹنگ کرتے ہیں، انجیکشن استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں کم وزن ضرور کم کرتے ہیں، تاہم علاج یا پرہیز ختم ہونے کے بعد ان کا وزن نسبتاً آہستہ بڑھتا ہے، اوسطاً ہر ماہ تقریباً 100 گرام۔
یہ بھی پڑھیں: پٹہکہ ،فوڈ اتھارٹی مظفرآباد ان ایکشن،ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ہوٹل سیل
نیشنل ہیلتھ سروس نے واضح کیا ہے کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز صرف ان افراد کے لیے تجویز کیے جائیں جو موٹاپے کے ساتھ صحت کے سنگین خطرات کا شکار ہیں۔ یہ انجیکشن صرف معمولی وزن کم کرنے والوں کے لیے نہیں ہیں۔




