ہٹیاں بالا(کشمیر ڈیجیٹل)شہریمحمد صادق نے ڈسٹرکٹ پریس کلب ہٹیاں بالا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جج بلال مصطفیٰ پر تشدد کا مبینہ طور پر الزام عائد کردیا۔
شہری محمد صادق کا کہنا تھا کہ بلال مصطفیٰ جو کہ جج ہے اور اس کے بھائی سعادت، مسرور اور شفیق نے سیری پٹرول پمپ کے قریب ان پر اچانک حملہ کیا
محمد صادق کے مطابق حملے کے دوران ان کا دانت توڑ دیا گیا آنکھ زخمی کی گئی جبکہ ان کے کمسن پوتے کے گلے میں پھندا ڈال کر اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:چین کی ویزا فیس رعایتی پالیسی میں 31دسمبر2026 تک توسیع
محمد صادق نے الزام لگایا کہ بلال مصطفیٰ مسلسل ان کا تعاقب کرتا ہے جبکہ اس کے بھائی رات کے وقت ان کے گھر کے اردگرد منڈلاتے رہتے ہیں جس کے باعث انہیں شدید جان کا خطرہ لاحق ہے۔۔
انہوں نے کہا کہ خوف کی وجہ سے وہ رات کے وقت گھر سے باہر نکلنے سے بھی قاصر ہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں انہیں جان سے نہ مار دیا جائے۔۔
متاثرہ شخص کا مزید کہنا تھا کہ مذکورہ افراد ان کی زمین ہتھیانا چاہتے ہیں اور زمین کے عوض ملنے والا دس لاکھ روپے کا معاوضہ بھی مبینہ طور پر یہ لوگ ہڑپ کر چکے ہیں۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:فیصل ممتاز راٹھور کا مساجد ، دینی مدارس سے متعلق اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ
محمد صادق کے مطابق بلال مصطفیٰ انہیں دھمکیاں دیتا ہے کہ وہ جج ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی ۔۔
محمد صادق نے بتایا کہ واقعے کے بعد وہ خون میں لت پت حالت میں سٹی تھانہ ہٹیاں بالا پہنچے اور پولیس کو اپنی فریاد سنائی تاہم پولیس کی جانب سے تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس کا موقف ہے کہ فریقین کو بلا کر سنا جائے گا۔ دوسری طرف بلال مصطفی سے جب موقف لیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ جھوٹے لوگ ہیں
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان سے جنگ بندی کیلئے بھارت نے لابنگ فرم کی خدمات حاصل کیں،انکشاف
ہمارا ان کے ساتھ پرانا کوئی زمین کا معاملہ تھا اس کی وجہ سے یہ ہم پر بہتان تراشیاں کرتے رہتے ہیں آج میں نے نہ ان کو پکڑا نہ مارا نہ مجھے پتہ ہے
جبکہ محمد صادق نے وزیراعظم آزاد کشمیر چیف جسٹس آزاد کشمیر اور آئی جی آزاد کشمیر سے اپیل کی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے انہوں نے کہا کہ وہ ایک غریب آدمی ہیں اور ان کا کوئی اور سہارا نہیں۔




