اسلام آباد: ایف آئی اے نے سی پیک منصوبے کو بدنام کرنے والی جعلی کمپنی کے خلاف تحقیقات مکمل کر لیں، جس کے دوران دس کروڑ روپے سے زائد کے مالی نقصان کا معاملہ سامنے آیا۔
ایف آئی اے کے مطابق سی پیک منصوبے کے نام پر اراضی اور لاکھوں روپے ہتھیا کر مالی فراڈ کرنے والے گینگ کے دو کارندوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے خود کو کمپنی کا نمائندہ ظاہر کیا اور شکایت کنندہ سے پچاس لاکھ روپے نقد کے علاوہ دو کروڑ روپے مالیت کا کمرشل پلازہ ہتھیا لیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان نے صرف پلازہ ہی نہیں بلکہ ساڑھے چار کروڑ روپے مالیت کا مکان بھی حاصل کیا، اور سیکٹر جی ففٹین میں پانچ کنال اراضی بھی اپنے قبضے میں لے لی، جس کے نتیجے میں شکایت کنندہ کو مجموعی طور پر دس کروڑ روپے سے زائد کا بھاری مالی نقصان ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: چوکی پولیس جلال آباد کی دبنگ کارروائی،فراڈ میں ملوث گروہ گرفتار
ایف آئی اے کے حکام نے بتایا کہ ملزمان کا غیر ملکی کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا پورا منصوبہ جعلی، فرضی اور فراڈ پر مبنی تھا۔ یہ گینگ پہلے بھی مالی فراڈ کے کئی مقدمات میں ملوث رہا ہے، جس کی بنیاد پر ایف آئی اے نے کارروائی کی اور دونوں ملزمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کی گئی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے سی پیک کے معتبر اور قانونی منصوبے کا نام استعمال کر کے عوام اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔ اس جعلی کمپنی نے قانونی دستاویزات اور جعلی شناختی کارڈز کے ذریعے شکایت کنندہ سے رقم اور اراضی ہتھیا کر خود کو قانونی طور پر محفوظ ظاہر کرنے کی کوشش کی، لیکن تحقیقات میں یہ سب جھوٹ اور فراڈ ثابت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:کال فارورڈنگ فراڈ سب سے زیادہ خطرناک،آپ کا بینک اکائونٹ خالی کرسکتا ہے




