واشنگٹن (07 جنوری 2026) وائٹ ہاؤس نے اعتراف کر لیا ہے کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے لیے ملٹری سمیت کئی آپشنز پر غور کر رہا ہے، جب کہ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو خریدنا چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کے حصول کے لیے ’’متعدد آپشنز‘‘ پر غور کر رہے ہیں، جن میں امریکی فوج کا استعمال بھی شامل ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بی بی سی کو بتایا کہ نیٹو رکن ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ کا حصول امریکا کے لیے ’’قومی سلامتی کی ترجیح‘‘ ہے۔
چند دن قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکا کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کی ’’ضرورت‘‘ ہے، جس پر ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا کہ امریکا کی طرف سے کوئی بھی حملہ نیٹو کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے منگل کو مزید کہا کہ ’’صدر اور ان کی ٹیم خارجہ پالیسی کے اس اہم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے بہت سے آپشنز پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، اور یقیناً امریکی فوج کا استعمال ہمیشہ کمانڈر انچیف کے اختیار میں ایک آپشن ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: وینزویلامیں دوبارہ فوج بھیجنے کیلئے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں: ٹرمپ
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے ارکان کانگریس کو بریفنگ میں بتایا کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ خریدنا چاہتے ہیں۔ تاہم، یورپی اتحاد نے ایک بیان میں کہا کہ صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ ہی اس معاملے پر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ اور اسپین کی حکمران قیادت نے ڈنمارک کے موقف کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔
یہ واضح ہے کہ امریکا گرین لینڈ کے حصول کے لیے مختلف سفارتی اور عسکری آپشنز پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں جغرافیائی اور سیکیورٹی کے حوالے سے سنجیدہ عالمی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔




