چکن

مہنگائی کا نیا وار ،چکن اور انڈوں نے شہریوں کی کمر توڑ دی

لاہور: ملک کے مختلف شہروں میں چکن کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان بدستور جاری ہے، جس کے باعث مرغی کا گوشت ایک مرتبہ پھر مہنگا ہو کر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برائلر گوشت کی قیمت میں مزید 7 روپے فی کلو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 591 روپے فی کلوگرام تک جا پہنچی ہے، جو اب تک کی سب سے زیادہ سطح سمجھی جا رہی ہے ۔

مارکیٹ میں صاف شدہ برائلر گوشت کی قیمت 700 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے متوسط اور کم آمدنی والے شہریوں کیلئے چکن خریدنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔

دکانداروں کے مطابق ایک مکمل مرغی کی قیمت ایک ہزار روپے سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا براہِ راست اثر گھریلو اخراجات پر پڑ رہا ہے ۔

زندہ برائلر مرغی کے فارم ریٹ 380 روپے فی کلو مقرر کیے گئے ہیں، تھوک مارکیٹ میں یہ قیمت 394 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے جبکہ پرچون سطح پر زندہ مرغی 408 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:دنیا بھر میں چکن گونیا کے لاکھوں کیسز رپورٹ، 186 افراد ہلاک

قیمتوں میں اس اضافے کے اثرات پوری سپلائی چین میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر آ رہا ہے ۔

دوسری جانب انڈوں کی قیمتیں بھی مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔ مارکیٹ میں انڈے 331 روپے فی درجن فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ ایک پیٹی کی قیمت 9 ہزار 810 روپے تک جا پہنچی ہے ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ چکن اور انڈے جیسی بنیادی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ان کی روزمرہ زندگی کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے ۔

ماہرین کے مطابق مرغیوں کی فیڈ مہنگی ہونے، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے، ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے اور طلب میں اضافے جیسے عوامل چکن کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں ۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چکن کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف میسر آسکے ۔

Scroll to Top