موبائل سم صارفین کے لیے پی ٹی اے کی آخری وارننگ جاری

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صرف اپنے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کریں۔ پی ٹی اے کے مطابق کسی دوسرے کے نام پر سم استعمال کرنا خلاف ضابطہ ہے اور اس پر قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

پی ٹی اے نے واضح کیا کہ یہ ہدایت خاندانی سطح پر بھی نافذ ہے، اگرچہ گھر کے افراد کے درمیان مسائل کم پیش آتے ہیں کیونکہ وہ ایک دوسرے کی شناخت اور سم کی رجسٹریشن سے آگاہ ہوتے ہیں۔ تاہم سب سے زیادہ خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سم کسی دوست یا نامعلوم شخص کے نام پر ہو، کیونکہ ایسے معاملات میں سم کے غلط استعمال کی اطلاعات بڑھ جاتی ہیں اور اصل ملزم تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی شخص کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہو، چاہے غیر قانونی سرگرمی کسی اور نے انجام دی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: کسی اور نام پر جاری سمز کب بند کی جائیں گی؟ پی ٹی اے کا اہم اعلان

پی ٹی اے کے مطابق ہر شہری اپنے نام پر زیادہ سے زیادہ آٹھ سمز حاصل کر سکتا ہے، جن میں تین صرف انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے مخصوص ہیں اور پانچ وائس کالز اور دیگر موبائل خدمات کے لیے۔ 18 سال سے کم عمر بچے بھی نادرا میں موجود بایومیٹرک معلومات کی بنیاد پر سم حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:موبائل سمز صارفین کیلئے اہم خبر، پی ٹی اے نے بڑا فیصلہ کرلیا

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کے مطابق آج کے دور میں سم کا استعمال بینکنگ، سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن سرگرمیوں کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی اور کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی کام کرتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے اسی فرد تک پہنچتے ہیں جس کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے۔ اس وجہ سے اصل مجرم تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے اور رجسٹرڈ شخص بلاوجہ قانونی مسائل میں پھنس سکتا ہے۔

Scroll to Top