مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل نیوز)آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پرائیویٹ ڈاکٹروں کی من مانیاں جاری، زیادہ فیسوں کے خلاف شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پرائیویٹ ڈاکٹر اب عام چیک اپ کے لیے 1500 سے 2000 روپے فیس وصول کر رہے ہیں ، جس سے عام آدمی کا علاج مشکل ہو گیا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت کی 6ارکان پر مشتمل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی قائم، عبد الماجد خان چیئرمین منتخب
شہریوں کے مطابق زیادہ تر ڈاکٹروں کے اپنے ہی کلینک ، میڈیکل اسٹور اور لیبارٹریاں ہیں ، جہاں مریضوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ دوائیں اور ٹیسٹ وہیں سے کروائیں، جس سے علاج کا خرچ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔
ایک بار ڈاکٹر کو دکھانے جائیں تو آدھی تنخواہ ختم ہو جاتی ہے ، حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔”سرکاری ہسپتالوں میں سہولت نہیں اور پرائیویٹ ڈاکٹر کھلے عام لوٹ مار کر رہے ہیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھنے ہوئے چنے ، ذیابیطس اورشوگر کو کنٹرول کا قدرتی راز ہے :طبی ماہرین
شہریوں نے حکومت اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی ڈاکٹروں کی فیسیں مقرر کی جائیں اور کلینکس ، لیبارٹریوں اور میڈیکل اسٹورز کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔
شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر ان مہنگے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو علاج صرف امیر لوگوں تک محدود ہو کر رہ جائے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جاپان : برڈ فلو کا ایک اور کیس سامنے آگیا، لاکھوں مرغیاں تلف کرنے کا فیصلہ




